تلنگانہ

تلگودیشم چھوڑ دینے ظہیر الدین ثمر کا اعلان

حیدرآباد۔ یکم دسمبر(پریس نوٹ)سینئر تلگودیشم پارٹی لیڈر محمد ظہیرالدین ثمر نے کہا کہ تلنگانہ تلگودیشم میں قیادت کا فقدان پایاجاتا ہے جہاں تحفظ ذہنی کا شکار قائدین پارٹی سربراہ و قومی صدر این چندرابابو نائیڈو کو غلط باور کرواتے ہوئے پارٹی کو ہر طرح سے نقصان پہچانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ممتاز تلگو فلم اسٹار این ٹی راما راو¿ نے 1982 میں تلگوعوام کی عزت نفس کے تحفظ اور کانگریس کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف تلگو دیشم کی بنیاد رکھی تھی جس کو متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں سیاسی اتار چڑھاو¿ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تلگودیشم نے تقریباً 16 سال شفاف حکمرانی کے ذریعہ ریاست کی ترقی کیلئے تمام جماعتوں کے ساتھ اتحادکرتے ہوئے قومی سطح پر اہم رول کیا جب کہ کانگریس کےساتھ کسی قسم کا اتحاد نہیں کیا کیوں کہ وہ ریاست کی ترقی کے خلاف تھی

 

اورکہا کہ تلگودیشم نے متحدہ ریاست میں 15 سال تک تعمیری اپوزیشن کا کرداربھی ادا کیا۔ظہیرالدین ثمر نے بتایا کہ علیحدہ ریاست کے لئے تحریک کے دوران عوام کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے صدر تلگودیشم این چندرابابو نائیڈو نے اس وقت کی مرکزی حکومت کو تلنگانہ کی تشکیل کے لئے مکتوب بھی لکھاجس کے ساتھ ہی نئی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تلنگانہ کے بعض مفاد پرست قائدین نے سیاسی کھیل کے ذریعہ پارٹی قائدین وکارکنوں کے علاوہ سنجیدہ کیڈر کو پارٹی اور پارٹی سپریمو سے دور کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میںتلنگانہ میں تلگودیشم کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ این چندرابابو نائیڈو نے تلنگانہ کے جن قائدین پر اعتماد کرکے پارٹی کو مستحکم کرتے ہوئے کیڈر کو سنبھالنے کی ضرورت پر زور دیا وہیں وہ قائدین قیادت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر تلگودیشم کو خیرباد کہتے ہوئے دوسری پارٹیوں میں اپنی سیاسی بازآباد کاری کو ترجےح دی اور حد تو یہ کی کہ پارٹی کو زوال پذیر کرنے کیلئے بعض مفاد پرست قائدین نے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد بھی کیا جس کے بعد مخلص قائدین اور کارکن خاموشی اختیار کرتے رہے یا سنجیدہ کیڈر کے ساتھ دوسری پارٹیوں میں شامل ہوگئے

 

۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے اقلیتی قائدین اور کارکنوں کو 2018 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے مسلسل نظر انداز کیا جارہا اور 3 سال گزر نے کے باوجود اہم سرگرمیوں سے اقلیتوں کو دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ این چندرابابو نائیڈو نے ہمیشہ ہندو اور مسلمانوں کو دو آنکھیں قرار دیتے رہے۔ایسے حالات میں اقلیتی قائدین نے پارٹی میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات چیت کے لئے تلنگانہ کے اہم قائدین کے ذریعہ متعدد مرتبہ پارٹی سربراہ سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ناکام رہے کیوں کہ یہ قائدین مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے میٹنگ کا اہتمام کرنے سے گریز کرتے رہے اور کہا کہ اس طرح کے حالات کو دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی تلگودیشم سے علیحدگی اختیار کرلینے پر مجبور ہورہے ہیںکیوں کہ تلنگانہ میں اب پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے صدر تلگودیشم کے پاس کوئی وقت ہے اور نہ ہی مناسب قیادت ہے جو ریاست میں نامساعد حالات کے دوران تلگودیشم قائدین و کارکنوں کی قربانیوں کے پیش نظر پارٹی کے استحکام پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تلگودیشم قائدین عوام کے بنیادی مسائل اور مضبوط اپوزیشن کا کردارادا کرنے کے لئے کارکنوں کی بہتر طریقہ پرخدمات کے حصول میں ناکام رہی۔ اس سلسلہ میں پارٹی کے ساتھ وابستگی بے معنی ہے

 

اور کہا کہ ٹی ٹی ڈی پی قائدین اپنے ذاتی مفاد کے لئے اقلیتوں کو نظر انداز کرکے پارٹی میں دوسرے درجہ کے شہری کی حیثیت سے برتاو¿ کررہے ہیں جو بیحد افسوس ناک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تلنگانہ میں تلگو دیشم کا ووٹ بینک محفوظ ہے لیکن قائدین ان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے ان حالات کے پیش نظر پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے سرگرمیوں سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کیااور ان تمام قائدین و کارکنوں کا شکریہ اداکیا جنہوں نے پارٹی کے مختلف عہدوں اور ذمہ داریوں پر ان کی حمایت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button