تلنگانہ

حیدرآباد میں دو سو سالہ جشن اردو صحافت

حیدرآباد: اردو صحافت کے دو سو سال کی تکمیل پر حیدرآباد میں شایان شان طور پر جشن منایا جائے گا۔ تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن کے بینر تلے منائیں جانے والے اس جشن کو حکومت تلنگانہ کی مکمل سرپرستی حاصل رہے گی۔ اس بات کا اعلان ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ان کی زیر صدارت منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں کیا۔ محمود علی نے ان تقاریب کے وسیع اور کامیاب تر انعقاد کے لئے اعلیٰ سطحی استقبالیہ کمیٹی کی تشکیل کو لازمی قرار دیا۔ فیڈریشن کے زیر اہتمام وزیر داخلہ کی سرکاری رہائیش گاہ پر منعقدہ مشاورتی اجلاس میں صدر نشین ریاستی میڈیا اکیڈمی الام نارائنا، کمشنر و سکریٹری انٹر میڈیٹ ایجوکیشن بورڈ سید عمر جلیل، صدر نشین اسمال و میڈیم ڈیلی نیوز پیپرس اسوسی ایشن رنگا سائی، جنرل سکریٹری تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے وراحت علی خان، سابق صدرFAPCCI وی انیل ریڈی، پروفیسر ایس اے شکور، ڈاکٹر مصطفی علی سروری مولانا آزاد نیشنل اردو یونورسٹی، نصیب اتحاد گروپ کے چیرمین و منیجنگ ڈائرکٹر محمد عتیق احمد اور دوسروں نے شرکت کی۔

جنرل سکریٹری فیڈریشن سید غوث محی الدین نے شرکا خیر مقدم کیا، جبکہ، جوائنٹ سکریٹری حبیب علی الجیلانی نے اردو صحافت کے دو سو سال کے جشن کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ ابتداءمیں صدر فیڈریشن ایم اے ماجد نے قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو صحافت کے حوالے سے منائے جا رہی تقارب کا حوالہ دیتے ہوئے حیدرآباد میں اس کے اہتمام کی ضرورت پر زور دیا۔ فیڈریشن حیدرآباد یونٹ کے صدر ایم اے محسن، محمد عبدالقادر فیصل، محمد امجد علی، محمد فاروق اور دوسروں نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔ اجلاس میں یہ طے پایا کہ استقبالیہ کمیٹی پروگرام کو ترتیب دے گی، حکومت کی اعانت سے رویندر بھارتی میں دو روزہ جشن صحافت منایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راو کے علاوہ مرکزی و ریاستی اہم شخصیتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس موقع پر قدیم اردو اخبارات کی نمائش کی جائے گی، اس کے علاوہ حیدرآباد دکن میں اردو صحافت کی خدمات اور اس کی زمہ داریوں پر سمینار کے علاوہ اس سے وابستہ صحافیوں پر ایک ڈاکیومنٹری تیار کی جائے گی۔ جشن اردو صحافت کے لئے یونورسٹی، اردو کے مجاز اداروں کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اہم شخصیات کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔ استقبالیہ کمیٹی کے وزیر داخلہ محمد محمود علی سرپرست ہوں گے۔ کمیٹی کے ارکان و عہداروں کا مشاورت کے ذریعہ انتخاب کیا کائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ، تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے۔ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے، جہاں سرکاری ملازمتوں کے لئے منعقد ہونے والے امتحانات کو اردو میں بھی تحریر کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ، تلنگانہ بلخصوص حیدرآباد اردو کا ایک مرکز ہے جہاں اردو صحافت کی جڑیں مضبوط ہیں۔ اس حوالے سے حیدرآباد میں جشن اردو صحافت کو شاندار پیمانے پر منانے میں کوئی کثر نہ رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button