جرائم و حادثات

حیدرآباد میں نوجوان کی نعش کا قبر سے نکال‌کر پوسٹ مارٹم

‎حیدرآباد: حیدرآباد میں ایک نوجوان کی نعش کا قبر سے نکال‌کر‌پوسٹ مارٹم‌کیا گیا۔منی کونڈہ میونسپلٹی کے پوپال گوڈہ فرینڈس کالونی کے رہنے والے 21 سالہ شیخ جنید کو اس مہینے کی 2 تاریخ کی رات کمر میں درد کی شکایت پر ان کے والد عبدالرحیم خانگی ہاسپٹل لے گئے۔

الزام عائد کیا گیا ہے کہ جنرل سرجن کے طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر سجاد، جنید کو سیدھا آپریشن تھیٹر لے گئے اور سرجری کی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ سرجری کے دوران سوئی جسم میں ٹوٹ گئی اور وہاں سے جنید کو ٹولی چوکی کے دوسرے ہاسپٹل لے جایا گیا تاکہ سوئی نکالی جاسکے۔ جنید کے ارکان خاندان کے مطابق ڈاکٹر سجاد نے کچھ دیر بعد انھیں بتایا کہ جنید کا قلب پر حملہ کے باعث انتقال ہوگیا۔ جنییدکے والد اور رشتہ داروں نے بتایا کہ ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کے نتیجے میں نوجوان کی موت ہوئی ہے۔

انہوں نے اس وقت صدمہ کی وجہ سے پولیس سے شکایت نہیں کی تھی بعد ازاں گولکنڈہ پولیس اسٹیشن میں اس بات کی شکایت درج کروائی گئی۔گھر والوں کی شکایت پر پولیس نے آج نعش کو قبر سے نکال کر فورینسک کے ماہرین کے ذریعے پوسٹ مارٹم کروایا تاکہ موت کی وجوہات کا پتہ چل سکے پولیس مصروف تفتیش ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button