بچّوں میں بڑھتا ہوا موٹاپہ۔ اسباب اور خطرات!

نئی دہلی۔ آج کے دور میں بچوں کے طرزِ زندگی میں بہت سی ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو ان کے وزن میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہیں۔ سب سے پہلے کھانے پینے کی عادات پر نظر ڈالیں تو پیک کیے گئے اسنیکس، فاسٹ فوڈ، برگر، پیزا، چپس، اور چاکلیٹ یا میٹھے مشروبات بچوں کی خوراک کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
یہ چیزیں بظاہر لذیذ ضرور ہوتی ہیں لیکن ان میں غذائیت کم اور کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں جس سے جسم میں چربی تیزی سے جمع ہونے لگتی ہے۔دوسری بڑی وجہ جسمانی سرگرمیوں میں کمی ہے۔ پہلے بچے گھنٹوں باہر کھیلتے تھے، دوڑتے تھے، سائیکل چلاتے تھے لیکن اب ان کے زیادہ تر مشاغل موبائل، ٹیبلٹ، کمپیوٹر گیمز یا ٹی وی تک محدود ہو گئے ہیں۔ آن لائن کلاسز نے بھی اسکرین ٹائم بڑھا دیا ہے جس سے جسمانی حرکت مزید کم ہو گئی ہے۔
اسی طرح الٹرا پروسیسڈ فوڈ یعنی وہ چیزیں جو فیکٹری میں زیادہ پراسیسنگ کے بعد بنتی ہیں بھی بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ ان میں نمک، چینی اور تیل کی مقدار زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ کیمیکل پریزرویٹوز بھی شامل ہوتے ہیں جو موٹاپے کو بڑھاتے ہیں۔ایک اور اہم وجہ نیند کی کمی ہے۔ جب بچہ پوری نیند نہیں لیتا تو اس کے ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس سے بھوک کے ہارمون بڑھ جاتے ہیں، جسم پیٹ کے گرد چربی جمع کرنے لگتا ہے اور وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔
یہی نہیں کم عمری میں ہی شوگر (ذیابطیس )ہونے کا خطرہ بھی ظاہر ہونے لگتا ہے۔ طبی ماہرین کا مشرہ ہے کہ والدین چند سادہ اقدامات سے بچوں کی صحت بہتر بنا سکتے ہیں گھر کا پکا ہوا، سادہ اور غذائیت سے بھرپور کھانا زیادہ دیں، پیکٹ والے اسنیکس اور کولڈ ڈرنکس کو بہت کم کر دیں، روزانہ کم از کم 45 تا 60 منٹ بچوں کو کھیل کود یا ورزش کے لیے وقت دیں
اسکرین ٹائم محدود رکھیں،بچوں کے لیے باقاعدہ نیند کا نظام بنائیں، پانی پینے کی عادت بڑھائیں۔



