کے سی آر اسمبلی نہیں آئے تو بی آر ایس کو بھگوان بھی نہیں بچا پائیں گے۔ کویتا

حیدرآباد: سابق وزیرِ اعلیٰ کے سی آر سے اسمبلی میں آنے اور پانی کے تنازعات پر بات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بی آر ایس کو بچانا بھگوان کے بس کی بات بھی نہیں ہوگی۔
کویتا نے سابق وزیر ہریش راؤ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ببل شوٹر پر یقین کرنے کی وجہ سے ہی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور اسی کی وجہ سے پالمور-رنگا ریڈی پراجیکٹ مسائل میں پھنس گیا ہے۔ جمعہ کو کویتا نے قانون ساز کونسل میڈیا پوائنٹ پر بات کی۔
اس سے پہلے انھوں نے کونسل کے چیئرمین گتہ سکھندرریڈی سے ملاقات کر کے اپنی استعفیٰ کی منظوری کی درخواست کی۔ انھوں نے کہا کہ "کے سی آر کو پھانسی دینے کی بات کرنا اور ریونت ریڈی کے تبصرے کرنا غلط ہے۔ ایک تحریک کے رہنما کو قصاب جیسے دہشت گرد سے تشبیہ دینا مناسب نہیں ہے۔ کے سی آر کی جدوجہد کی بدولت ہی ریاست کی تشکیل ممکن ہوئی۔
جورالہ سے سری سیلم تک انٹیک پوائنٹ کیوں بدلا گیا یہ کے سی آر کو اچھی طرح معلوم ہے۔ تلنگانہ کے عوام کے مفاد میں وہ اسمبلی میں آکر بات کریں۔ اگر کے سی آر نے کچھ غلط نہیں کیا تو انھیں اسمبلی میں آنا چاہیے۔ کویتا نے مزید کہا کہ 5 یا 6 تاریخ کو خطاب کر کے اپنے استعفیٰ کے وجوہات بتائیں گی۔



