بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو نوجوان کا گاڑی سے ٹکر سے دے کر قتل

نئی دہلی: بنگلہ دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنا کر حملے مسلسل جاری ہیں۔ جمعہ کے روز ایک اور ہندو نوجوان کو مقامی شخص نے گاڑی سے ٹکر مار کر قتل کر دیا
یہ بات مقامی میڈیا ذرائع نے بتائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رِپون ساہا عمر (30) سال فلنگ اسٹیشن میں کام کرتا تھا۔ جمعہ کے دن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے راج بری ضلع یونٹ کے سابق خازن ابوال ہاشم پٹرول لینے آیا۔
پٹرول بھروا لینے کے بعد وہ بغیر پیسے دیے جانے کی کوشش کرنے لگا جس پر رِپون نے اسے روکنے کی کوشش کی جب اس نے ایندھن کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا تو ہاشم غصے میں آ گیا اور اپنی گاڑی رِپون پر چڑھا دی۔
گاڑی کے اس کے اوپر سے گزر جانے کے باعث رِپون شدید زخمی ہو گیا اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔اس واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے گاڑی کو ضبط کر لیا ہے۔
ابوال ہاشم اور اس کے کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً تین ہفتوں کے دوران دس ہندوؤں کے قتل ہونے
سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی سلامتی پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔



