تلنگانہ

ملک بھر کے اقلیتوں کے لئے صرف 3400 کروڑ کا بجٹ – مرکز کا بجٹ تلنگانہ سے بھی کم : محمد علی شبیر

حیدرآباد، یکم فروری: سینئر کانگریس قائد اور تلنگانہ حکومت کے مشیر (ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیات) محمد علی شبیر نے مرکزی بجٹ 2026-27 پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت نے ایک بار پھر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے میں ناکامی کا ثبوت دیا ہے، حالانکہ مجموعی بجٹ کے حجم میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

 

وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ سال 2026-27 کے لئے وزارتِ اقلیتی امور کو محض 3,400 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جن میں 3,395.62 کروڑ روپے ریونیو مد اور صرف 4.38 کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ اضافہ بمشکل 50 کروڑ روپے ہے، جبکہ مجموعی مرکزی بجٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

 

شبیر علی کے مطابق 2025-26 میں مرکزی بجٹ کا حجم تقریباً 50.65 لاکھ کروڑ روپے تھا، جو 2026-27 میں بڑھ کر اندازاً 53.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، یعنی ایک ہی سال میں 2.85 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے اضافے میں سے اقلیتوں کے حصے میں صرف 50 کروڑ روپے آئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں جبکہ اقلیتیں ملک کی آبادی کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں اقلیتی فلاح کے لئے مرکزی حکومت کی مجموعی رقم اب کئی ریاستوں کے انفرادی اخراجات سے بھی کم ہے۔ شبیر علی نے کہا کہ کانگریس کے زیرِ اقتدار تلنگانہ نے ہی 2025-26 میں محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے لیے 3,591 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، جبکہ کرناٹک نے بھی مختلف اسکیمات کے ذریعے 4,000 کروڑ روپے سے زائد کی رقم اقلیتوں کے لئے رکھی ہے۔

 

شبیر علی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ایک تشویشناک حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ پورے ملک کے لئے مرکزی حکومت اقلیتوں پر اتنا بھی خرچ نہیں کر رہی جتنا تلنگانہ جیسی ایک ریاست کر رہی ہے، حالانکہ مرکزی بجٹ دسیوں لاکھ کروڑ روپے پر مشتمل ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کے تناسب سے بھی ریاستیں اقلیتی فلاح کے لئے نسبتاً زیادہ سنجیدہ ہیں۔ تلنگانہ نے اپنے بجٹ کا تقریباً 1.18 فیصد اقلیتوں کے لئے مختص کیا ہے، جبکہ مرکزی حکومت کا حصہ مجموعی قومی بجٹ میں اعشاریہ کے بھی ایک چھوٹے حصے کے برابر ہے، جو شماریاتی طور پر نہایت معمولی ہے۔

 

شبیر علی نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ مسلسل مرکزی بجٹوں کی مار جھیل رہا ہے۔ اقلیتی طلبہ کے لئے اسکالرشپ، فیلوشپ اور تعلیمی امدادی اسکیمات یا تو جمود کا شکار ہیں یا کمزور ہو چکی ہیں، جس سے بالخصوص پہلی نسل کے طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگراموں کو بھی خاطر خواہ مدد نہیں دی گئی، جس سے اقلیتی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

 

طویل مدتی موازنہ کرتے ہوئے شبیر علی نے یاد دلایا کہ 2013-14 میں جب مجموعی مرکزی بجٹ 16.65 لاکھ کروڑ روپے تھا، اس وقت کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت نے اقلیتی فلاح کے لیے 3,531 کروڑ روپے مختص کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب مرکزی بجٹ بڑھ کر 53.5 لاکھ کروڑ روپے ہو چکا ہے، تب اقلیتوں کے لئے مختص رقم گھٹ کر 3,400 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ یہ جمود نہیں بلکہ واضح پسپائی ہے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025-26 اور 2026-27 کے درمیان مرکزی بجٹ میں ہونے والا 2.85 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ، تلنگانہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش کے مجموعی اقلیتی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب حکومت ایک ہی سال میں بجٹ میں اتنا بڑا اضافہ کر سکتی ہے تو اقلیتوں کے لئے صرف 50 کروڑ روپے بڑھانے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا

 

یو پی اے دور کا حوالہ دیتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ وزارتِ اقلیتی امور 2006 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا بجٹ 2006-07 میں 144 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2013-14 میں 3,531 کروڑ روپے تک پہنچا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی حکومت کے دور میں نہ صرف حقیقی معنوں میں بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ فنڈز کے استعمال کی شرح بھی مایوس کن رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا نعرہ ان اعداد و شمار سے پوری طرح جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ بجٹ ایک بار پھر اقلیتوں کی منظم نظراندازی کو بے نقاب کرتا ہے۔

 

شبیر علی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کے لئے تعلیم، ہنرمندی کی ترقی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جائیں، کیونکہ حقیقی شمولیت ہی سماجی انصاف اور پائیدار قومی ترقی کی بنیاد ہے۔

 

انہوں نے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر تلنگانہ کو بھی مسلسل نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ شبیر علی کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حیدرآباد میٹرو فیز-2، ریجنل رنگ روڈ، موسیٰ ندی کی بحالی اور آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ 2014 سے متعلق وعدوں کی تکمیل کے لئے فنڈز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن بجٹ میں ان کا کوئی واضح ذکر یا تخصیص نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمودی ٹیکس تقسیم بدستور 41 فیصد پر برقرار ہے، جبکہ 50 فیصد کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، اور نہ ہی مالی خسارے کی حد میں کوئی نرمی کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button