گود لئے گئے بیٹے کی جڑوں کی تلاش: ڈینمارک کا جوڑا برسوں بعد تلنگانہ کے عادل آباد پہنچا

عادل آباد: یکم فروری (اردو لیکس)ڈینمارک سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا اپنے گود لیے ہوئے بیٹے کی اصل شناخت اور اس کی جڑوں کی تلاش میں سرحد پار کر کے عادل آباد پہنچا ہے۔ یہ معاملہ سن 2016 سے وابستہ ہے، جب ایک نامعلوم خاتون نے دو ماہ کے ایک نومولود بچے کو عادل آباد کے رِمس (RIMS) اسپتال میں چھوڑ دیا تھا۔
واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس نے بچے کو تحویل میں لے کر ایک یتیم خانے منتقل کیا، جہاں اس کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش کی گئی۔ بعد ازاں تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد سن 2018 میں ڈینمارک کے جوڑے لوئیس راسمس اور ان کی اہلیہ نے اس بچے کو باضابطہ طور پر گود لے لیا۔ گود لینے کے بعد بچے کا نام ارجن رکھا گیا اور جوڑا اسے اپنے ساتھ ڈینمارک لے گیا۔
کئی برس گزرنے کے بعد اب یہی جوڑا ہفتہ کے روز دوبارہ عادل آباد پہنچا ہے، تاکہ اپنے گود لیے ہوئے بیٹے ارجن کے حیاتیاتی والدین اور اس کی اصل شناخت سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ جوڑا ایڈاپٹی رائٹس کونسل کی مدد سے بچے کے اصل والدین تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈینمارک کا یہ جوڑا میڈیا کے ذریعے عوام سے اپیل کر رہا ہے کہ اگر کسی کے پاس ارجن کی پیدائش، اس کے پس منظر یا اس کی اصل شناخت سے متعلق کوئی بھی معلومات ہوں تو وہ متعلقہ اداروں یا جوڑے سے رابطہ کریں۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ اس کوشش کا مقصد محض اپنے بیٹے کو اس کی اصل جڑوں سے آگاہ کرنا ہے اور ان کا کسی کو کسی بھی طرح کی پریشانی میں مبتلا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔




