سعودی عرب میں ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا

سعودی عرب میں چاند نظر آگیا۔کل 18 فروری کو پہلا روزہ
ریاض۔سعودی عرب مجیدعارف نظام آبادی کی رپورٹ )
میڈیا کے مطابق رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے مکہ، مدینہ، تبوک،سدیر سمیت دیگرشہروں کی آبزرویٹری میں اجلاس ہوئے جس میں محکمہ موسمیات اور فلکیات کے ماہرین نے شرکت نے شرکت کرتے ہوئے رویت ہلال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کے علاقوں سدیر اور تمیر میں چاند نظر آیاہے۔سعودی عرب میں کل یکم 18 فروری کو پہلا روزہ ہوگا۔ سعودی سپریم کورٹ نے بھی رمضان المبارک کا چاند دیکھنےکی تصدیق کردی
جس کے بعد شاہی دیوان نے فرمان بھی جاری کردیاہے۔سعوری عرب میں رمضان المبارک کا استقبال نہایت عقیدت، روحانیت اور اجتماعی جوش و خروش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ یہاں صرف عبادت کا نہیں بلکہ نظم و ضبط، ایثار، سخاوت اور سماجی ہم آہنگی کا عملی مظہر بن جاتا ہے۔ جیسے ہی شعبان کا آخری عشرہ ختم ہونے لگتا ہے
، پورے ملک میں ایک خاص روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔رمضان کے آغاز سے قبل مساجد کی صفائی و آرائش کی جاتی ہے، قالین بدلے جاتے ہیں اور روشنیوں کا خاص انتظام کیا جاتا ہے۔ حرمین شریفین سمیت تمام بڑی مساجد میں اضافی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو۔ مساجد میں قرآن مجید کی تلاوت، دروسِ قرآن اور دینی مجالس کا اہتمام بڑھا دیا جاتا ہے۔
سعودی معاشرے میں رمضان کا استقبال سادگی اور نظم کے ساتھ ہوتا ہے۔ بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی بڑھ جاتی ہے، افطار کے لیے کھجوریں، قہوہ، سموسے اور دیگر روایتی اشیاء عام نظر آتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر خاص نظر رکھی جاتی ہے تاکہ عوام کو سہولت ملے اور مہنگائی پر قابو رہے۔افطار کے وقت سعودی عرب میں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مساجد، سڑکوں اور عوامی مقامات پر افطار دسترخوان کے طور پیکٹس تقسیم کئے جاتے ہیں جہاں امیر و غریب، مقامی و غیر ملکی سب ایک ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ یہ منظر اسلامی اخوت اور مساوات کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ رضاکار بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ روزہ داروں کی خدمت کرتے ہیں۔
رمضان میں راتیں بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ تراویح کی نماز بڑے اہتمام سے ادا کی جاتی ہے، اور مساجد میں خشوع و خضوع کا عالم ہوتا ہے۔ لوگ دیر تک عبادت، دعا اور تلاوت میں مشغول رہتے ہیں۔ آخری عشرے میں اعتکاف اور شب قدر کی تلاش کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
سعودی عرب میں رمضان المبارک کا استقبال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اپنے اخلاق کو سنوارنے، صبر و تحمل اپنانے، اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کا خیال رکھنے کا بہترین موقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں رمضان کا آغاز دلوں کو جوڑنے اور ایمان کو تازہ کرنے کا پیغام لے کر آتا ہے۔



