امریکہ کی حمایت خلیجی ممالک کو مہنگی پڑی – ایران نے قطر، امارات اور کویت کو بھی جنگ کی لپیٹ میں لے لیا

حیدرآباد _ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ ایران بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔ تاہم ایران صرف براہِ راست حملوں تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں دبئی اور قطر جیسے ممالک پر بھی میزائل حملے کئے گئے۔
حالانکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک — قطر ؛ کویت ، اور متحدہ عرب امارات — خود کو اس جنگ میں غیر جانبدار قرار دے رہے ہیں، لیکن ایران کے نزدیک انہیں نشانہ بنانے کی کئی مضبوط وجوہات ہیں۔
1۔ امریکی فوجی اڈے
خلیجی ممالک سیاسی طور پر غیر جانبداری کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن ان کی سرزمین پر امریکہ کے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قطر میں العديد فوجی اڈہ اور متحدہ عرب امارات میں الظفرہ فوجی اڈہ قائم ہے، جبکہ سعودی عرب میں بھی امریکی افواج تعینات ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ان ہی فوجی اڈوں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اس لئے جب تک یہ ممالک امریکہ کو سہولت فراہم کرتے رہیں گے، وہ غیر جانبدار نہیں سمجھے جا سکتے۔
2۔ فضائی حدود کا استعمال
اگر امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر فضائی حملے کرنا ہوں تو انہیں سعودی عرب اور اردن جیسے ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایران خبردار کر چکا ہے کہ اگر کسی ملک نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے حملے میں شریک سمجھا جائے گا۔ اسی بنا پر ایران ان ممالک کو بھی اپنا مخالف تصور کر رہا ہے جو اس کے داغے گئے میزائل روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
3۔ بالواسطہ جنگ اور علاقائی بالادستی
گزشتہ ایک دہائی سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان خطے میں اثر و رسوخ کی کشمکش جاری ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جبکہ سعودی عرب ان کے خلاف سرگرم ہے۔ موجودہ جنگ کے دوران ایران اپنے اتحادیوں کے ذریعے سعودی تنصیبات، خصوصاً تیل کے مراکز، کو نشانہ بنا کر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
4۔ تیل کی سیاست
دنیا میں تیل کی فراہمی میں خلیجی ممالک کلیدی کردار رکھتے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کی تیل برآمدات متاثر ہوئیں تو وہ خطے میں کسی اور کو بھی تیل برآمد نہیں کرنے دے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھا کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔
مجموعی طور پر، اگرچہ خلیجی ممالک خود کو غیر جانبدار قرار دے رہے ہیں، لیکن امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور فوجی تعاون کے باعث ایران انہیں شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ حالیہ حملوں کو اسی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے تاکہ ان ممالک کے ذریعے امریکہ پر اثر ڈالا جا سکے۔



