ایران سے جنگ 6 امریکی فوجی ہلاک 18 زخمی

نئی دہلی: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ عسکری مہم کے دوران اپنے 6 فوجیوں کی ہلاکت اور 18 کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
"سینٹ کام” کی جانب سے پیر کی شام جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا کہ 2026ء بروز 2 مارچ شام 4 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 6 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک علیحدہ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی ایرانی حملوں کے دوران ایک تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو فوجیوں کی لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ "اے بی سی” نیوز نے سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز کے حوالے سے بتایا کہ ان کارروائیوں میں 18 امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پیر کی صبح جاری ہونے والی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں پہلے 4 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔اسی تناظر میں سینٹ کام نے انکشاف کیا ہے کہ کویت کی فضائی حدود میں
پرواز کرنے والے 3 امریکی ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے گر کر تباہ ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام نے اس واقعے کو کویتی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہونے والی غلطی یا فرینڈلی فائر قرار دیا ہے جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ ان طیاروں کو ایرانی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ان تینوں طیاروں جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 10 کروڑ ڈالر ہے
کے عملے کے 6 ارکان نے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچا لیں۔گذشتہ اتوار کو سینٹ کام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا گیا ہے۔ سینٹ کام نے ایکس پر اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس زمین کی طاقتور ترین فوج ہے اور اب پاسداران انقلاب کا کوئی ہیڈ کوارٹر باقی نہیں بچا۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے برعکس ایک طویل المدتی جنگ کے لیے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم اپنے دشمنوں کو ان کی غلط فہمیوں اور غلط اندازوں پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ
بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے اور وہ ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے۔واضح رہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل نے ہفتے کی صبح سے ایران پر ایک وسیع تر مشترکہ حملہ شروع کر رکھا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں عسکری کمانڈروں سمیت فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچنگ پیڈس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تہران نے اس جارحیت کے جواب میں قابض اسرائیل کے مختلف علاقوں پر میزائلوں کی برسات کر دی ہے جس کے نتیجے میں وہاں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔



