انٹر نیشنل

تل ابیب پر ایرانی میزائل حملہ 7 اسرائیلی زخمی گاڑیوں کو نقصان

نئی دہلی ۔ منگل کی شام تل ابیب پر ایک ایرانی میزائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم 7 اسرائیلی زخمی ہو گئے۔ عبرانی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل تل ابیب کے مشرقی علاقے بنی براک میں گرا جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ گاڑیوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی تعداد 6 ہونے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ 18 دیگر فوجی شدید زخمی بتائے جاتے ہیں۔

 

سینٹ کام نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق 2 مارچ کی شام چار بجے تک جنگی کارروائیوں کے دوران 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک الگ پوسٹ میں سنتھکوم نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی حملوں کے ابتدائی مرحلے میں ایک تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو فوجیوں کی باقیات بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔

 

ایران کے ہلالِ احمر نے پیر کے روز بتایا کہ گذشتہ دو دنوں سے جاری امریکی و اسرائیلی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 555 تک پہنچ گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ اسرائیلی و امریکی حملوں میں پورے ایران میں 131 رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں 555 افراد کی موت ہوگئی۔

 

گذشتہ ہفتے سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کر رہے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ سکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔ تہران کی جانب سے اس جارحیت کا جواب قابض اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔

 

یہ دوسری بار ہے جب قابض اسرائیل نے مذاکرات کی میز کو الٹا ہے؛ اس سے قبل پہلی مرتبہ سنہ 2025ء کی جون میں جنگ کا آغاز کر کے ایسا کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button