اسپشل اسٹوری

ایران کی جنگی حکمت عملی،لاکھوں کے ڈرونس سے کروڑوں کے میزائل کا مقابلہ۔ کم خرچ میں دشمنوں کو بھاری نقصان

نئی دہلی: اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ میں ایران ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ وہ خود زیادہ خرچ کیے بغیر اپنے مخالفین کو بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دشمن کے وسائل اور پیسے ختم کر کے انہیں تھکا

 

دینا ہی ’اٹریشن وار‘ (Attrition War) کی بنیادی حکمتِ عملی ہے۔ دراصل ایران امریکہ اور اسرائیل کے جنگی اخراجات کو کس طرح بڑھا رہا ہے آئیے دیکھتے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کے پاس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیار موجود ہیں لیکن ایران ان کا مقابلہ سستے ڈرونز سے کر رہا ہے۔

 

ان میں سب سے نمایاں شاہد-136 ون وے اٹیک ڈرون ہیں۔ یہ چھوٹے کروز میزائلوں کی طرح کام کرتے ہیں اور ہدف تک پہنچتے ہی پھٹ جاتے ہیں اسی لیے انہیں خودکش ڈرون بھی کہا جاتا ہے۔ایک ڈرون بنانے کی لاگت تقریباً 20 ہزار ڈالر (تقریباً 16 لاکھ بھارتی روپے)ہے

 

لیکن ان ڈرونز کو روکنے کے لیے خلیجی ممالک اور امریکہ جو دفاعی میزائل استعمال کرتے ہیں ان کی قیمت کروڑوں روپے تک پہنچتی ہے۔مثال کے طور پر اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے ایک میزائل کی قیمت تقریباً 35 سے 45 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔

 

اسی طرح طیاروں سے داغے جانے والے سائیڈوائنڈر میزائل اس سے بھی زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم میں استعمال ہونے والے ایک انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت 30 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی تقریباً 16 لاکھ روپے کے ڈرون کو مار گرانے کے لیے 30 کروڑ روپے کا میزائل استعمال کرنا پڑتا ہے

 

یہی قیمت کا بڑا فرق اب مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو مہنگے میزائلوں کے ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔ بعض داخلی اندازوں کے مطابق خلیجی ممالک میں پہلے ہی میزائلوں کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں

 

۔اگر ایران کم لاگت پر ہزاروں ڈرون تیار کر کے حملے جاری رکھتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کے لیے انہیں روکنا معاشی طور پر بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ آخرکار ہتھیاروں کی کمی اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے جنگ روکنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button