تلنگانہ

تلنگانہ کے بالکنڈہ سب انسپکٹر  کا مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ – آرمور مجلس صدر محمد ظہیر علی کی اے سی پی سے ملاقات – کاروائی کرنے کا کیا مطالبہ

محمد صادق کی رپورٹ 

 

تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے بالکنڈہ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر شیلندر کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ مبینہ تعصبانہ رویہ اختیار کرنے پر مجلس اتحاد المسلمین کے آرمور ٹاؤن صدر محمد ظہیر علی نے سخت مذمت کی۔ انہوں نے آرمور کے اے سی پی ونکٹیشورلو سے ملاقات کرتے ہوئے متعلقہ عہدیدار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 

تفصیلات کے مطابق محمد ظہیر علی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بالکنڈہ سے تعلق رکھنے والے عرفان کو ایک معمولی جھگڑے کے معاملہ میں پولیس نے بے رحمانہ طریقے سے زدوکوب کیا۔ اس کے علاوہ تین دیگر مسلم نوجوانوں کو بھی مبینہ طور پر وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جن نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا وہ روزے کی حالت میں تھے اور صرف ان کے حلیے کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ نوجوانوں پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا گیا جس کے نشانات اب بھی ان کے جسم پر موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح بے رحمانہ انداز میں تشدد کرنے کا اختیار پولیس کو کس نے دیا ہے۔

 

محمد ظہیر علی نے کہا کہ ریاست میں فرینڈلی پولیسنگ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، مگر بالکنڈہ میں اس کے برعکس تعصبانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں بھی سب انسپکٹر شیلندر کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر سزا دینے کا اختیار پولیس کو ہی دے دیا جائے تو پھر عدالتوں کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ انہوں نے نظام آباد کے پولیس کمشنر چتنیہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

 

مجلس کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی کی ہدایت پر نظام آباد کے مجلسی قائدین شکیل احمد فاضل، ضلعی صدر محمد فیاض، شہباز اور آرمور ٹاؤن صدر محمد ظہیر علی نے متاثرہ شخص عرفان کے ہمراہ آرمور کے اے سی پی ونکٹیشورلو سے ملاقات کرتے ہوئے ایک تحریری یادداشت بھی پیش کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button