انٹر نیشنل

“ٹرمپ، ایک بار ان بچوں کی آنکھوں میں دیکھو”۔ تہران ٹائمس کا صفحہ اول

نئی دہلی: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حملے اور جوابی حملے مسلسل جاری ہیں۔ اس جنگ میں املاک اور انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوتا جا رہا ہے۔ جنگ کے دوران معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے اخبار “تہران ٹائمز” کی ایک خبر نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔

 

جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہوئے حملے میں 150 سے زائد بچیوں کے جاں بحق ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ تازہ طور پر پیر کے روز اخبار نے ان بچوں کی تصاویر اپنے پہلے صفحے پر شائع کیں۔اخبار نے پہلے صفحے پر بچوں کی تصاویر کے ساتھ یہ جملہ لکھا“ٹرمپ، ایک بار ان بچوں کی آنکھوں میں دیکھو۔”تہران ٹائمز نے اپنے ایکس (سوشل میڈیا) پوسٹ میں کہا کہ سینکڑوں ایرانی بچے امریکی حملوں میں مارے گئے

 

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میناب حملے کو تسلیم نہیں کر رہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی میزائل حملوں میں یہ بچے ہلاک ہوئے، جبکہ صدر ٹرمپ اس الزام کو ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے ہتھیار درست نشانہ لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور میناب کے اسکول پر حملے کی ذمہ داری بھی ایران پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اسی بیان کے جواب میں تہران ٹائمز نے بچوں کی تصاویر شائع کر کے ردعمل دیا۔

 

دوسری طرف تہران ٹائمز کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ جذباتی انداز میں لکھ رہے ہیں کہ زندگی میں بہت کچھ دیکھنے والے معصوم بچے کم عمری میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ اس حملے کے ذمہ دار امریکی صدر ٹرمپ، میزائل بنانے والے اور اس میں تکنیکی مدد فراہم کرنے والے سب لوگ ہیں

 

ایک اور صارف نے مطالبہ کیا کہ اس جنگ کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button