ایران کے خلاف جنگ۔ 48 گھنٹوں میں ہتھیاروں پر امریکہ کے تقریباً 5.6 ارب ڈالر خرچ

نئی دہلی: گزشتہ دس دنوں سے امریکہ ایران پر انتہائی شدت کے ساتھ حملے کر رہا ہے اور اس کے لیے جدید ترین ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے صرف پہلے دو دنوں میں ہی امریکہ نے تقریباً 5.6 ارب ڈالر (تقریباً 51 ہزار کروڑ روپے) مالیت کا اسلحہ استعمال کیا۔
اس میں فوجیوں جنگی طیاروں یا بحری بیڑے کی تعیناتی پر آنے والے اخراجات شامل نہیں ہیں۔امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور اس دوران فضائی دفاعی نظام ٹام ہاک کروز میزائل سمیت سینکڑوں جدید ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے ہتھیاروں کے استعمال کا ایک ابتدائی تخمینہ حال ہی میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا اسلحہ کتنی مقدار میں استعمال ہوا، تاہم بعض حکام کے مطابق صرف پہلے دو دنوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی مالیت ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر بنتی ہے۔
دوسری جانب مغربی ایشیا میں فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک تقریباً پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں مہنگے ہتھیاروں کے استعمال پر بعض امریکی قانون سازوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ ترجمان کے مطابق محکمہ دفاع صدر کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ ایران میں جاری حملوں کو برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایک اضافی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس کو تجویز بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم امکان ہے کہ اس بجٹ تجویز کو ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



