انٹر نیشنل

“تیل کی قلت سے بچنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کے اقدامات” بنگلہ دیش میں ایئر کنڈیشنر کا استعمال کم کرنے لائٹس جلد بند کرنے اور پاکستان میں ورک فرم ہوم کی ہدایت

نئی دہلی: ایران میں جنگ کے شدت اختیار کرنے کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو گئی ہے جو دنیا میں تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس راستے سے جہازوں کا سفر کرنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہو گیا ہے

 

کیونکہ کسی بھی لمحے کسی خطرے کے پیش آنے کا خدشہ ہے اور جہازوں پر حملے کا اندیشہ برقرار ہے۔دوسری طرف تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے امریکہ پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ 172 ملین بیرل تیل جاری کرے گا۔

 

اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے تعاون سے اس مقدار کو بڑھا کر 400 ملین بیرل تک لے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود تیل کی قیمتیں قابو میں نہیں آ رہیں، جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک توانائی کے بحران سے نکلنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔

 

اب تک امریکہ دنیا کے ممالک کو روس سے تیل خریدنے سے منع کرتا رہا تھا مگر اب اس نے اپنے موقف میں نرمی دکھائی ہے اور کچھ مقدار میں روس سے تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے قواعد میں نرمی کی ہے۔آسٹریلیا نے اپنے ذخائر سے 762 ملین لیٹر پٹرول اور ڈیزل عوام کے لیے جاری کیا ہے۔

 

اس سے امید کی جا رہی ہے کہ دیہی علاقوں میں تیل کی قلت پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایندھن کے معیار کے ضوابط میں بھی نرمی کی گئی ہے تاکہ زیادہ سلفر والا ان لیڈڈ پٹرول بھی فروخت کیا جا سکے۔جاپان نے اپنے ذخائر سے 80 ملین بیرل تیلجاری کیا ہے۔

 

اس کے پاس موجود ذخائر 245 دن کے لیے کافی ہیں جن میں سے جاری کی گئی مقدار تقریباً 45 دن کے استعمال کے برابر ہے۔جنوبی کوریا نے تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی ہے۔ گزشتہ 30 سال میں یہ پہلی بار ہے کہ ایسا اقدام کیا گیا ہے۔ عام پٹرول کی قیمت 1.17 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

 

بھارت میں پہلے ہی پٹرول، ڈیزل اور گیس کو بلیک مارکیٹ میں جانے سے روکنے کے لیے ضروری اشیاء کے قانون کو نافذ کیا گیا ہے۔ کھانا پکانے کے ایندھن کے لیے باقاعدہ کوٹے کے تحت جاری کیے جانے والے مٹی کے تیل (کیروسین) کے علاوہ مزید 48 ہزار کلو لیٹر ریاستوں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

ساتھ ہی مہمان نوازی اور ریسٹورنٹ کے شعبوں کو بایو ماس، کوئلہ اور دیگر متبادل ایندھن استعمال کرنے کی ایک ماہ تک اجازت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ ایئر کنڈیشنر کا استعمال کم کریں اور لائٹس جلد بند کریں۔

 

اس کے علاوہ غیر ضروری سفر کم کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔پاکستان نے بھی اقدامات کرتے ہوئے اسکول بند کرنے اور ورک فرام ہوم کی اجازت دینے جیسے فیصلے کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button