ایرانی قیادت کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

نئی دہلی: امریکہ نے ایران کے سینئر فوجی اور انٹیلی جنس عہدیداروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام دینے کا اعلان کیا ہے جن میں ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ انعام ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) سے وابستہ 10 عہدیداروں کو ہدف بناتا ہے۔ یہ فوجی فورس ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم کی گئی تھی
اور سپریم لیڈر کی وفادار سمجھی جاتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر ذمہ داری سنبھالی ہے۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو شروع ہونے والے
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں کئی دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ جاں جاں بحق ہوگئے تھے۔نئے سپریم لیڈر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان حملوں میں زخمی ہوئے تھے اور اس کے بعد سے عوام کے سامنے نہیں آئے
تاہم انہوں نے جمعرات کو اپنا پہلا بیان جاری کیا۔سپریم لیڈر کے علاوہ امریکہ ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی، انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب، وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور خامنہ ای کے دفتر کے دو دیگر عہدیداروں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
جمعہ کو رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں علی لاریجانی کو صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ایک ریلی میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا حالانکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی
قیادت زیر زمین چھپی ہوئی ہے۔انعام کی ویب سائٹ پر مزید چار عہدیداروں کا بھی ذکر ہے جن میں آئی آر جی سی کے کمانڈر اور دفاعی کونسل کے سیکریٹری شامل ہیں لیکن ان کے نام یا تصاویر فراہم نہیں کی گئیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق“یہ افراد آئی آر جی سی کے مختلف حصوں کو کمان اور ہدایت دیتے ہیں
جو دنیا بھر میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی تنظیم اور کارروائی کرتی ہے۔”جمعہ کے روز، جو ایران میں ہفتہ وار تعطیل کا دن ہوتا ہے پاسدارانِ انقلاب سے فوری طور پر تبصرہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مشن نے بھی فوری طور پر ردِعمل نہیں دیا۔
امریکہ نے آئی آر جی سی کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس پر ایسے حملوں کا الزام لگایا ہے جن میں امریکی شہری ہلاک ہوئے۔ واشنگٹن نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کے خلاف قتل کی سازشیں رچی ہیں۔ایران دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ایرانی حکام اکثر امریکی الزامات کو بے بنیاد سیاسی حملے قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ واشنگٹن ایسے دعوے دباؤ یا پابندیوں کو جواز دینے کے لیے کرتا ہے۔



