انٹر نیشنل

ایران پر پھر حملہ کرنے تیاری کررہے ہیں اسرائیل اور امریکہ

امریکہ–ایران مذاکرات ناکام، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے

 

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر سلگتی ہوئی چنگاری بن گیا ہے۔ خطے میں ایسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران پر دوبارہ حملوں (Iran-US War) کی تیاری سے متعلق امریکہ اور اسرائیل کی خبروں نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

 

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنے کا عندیہ امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے ہی دے چکی ہے۔ اسی کے ساتھ ایران پر محدود پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ عالمی میڈیا نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے، تاہم ان حملوں کی حتمی منظوری ٹرمپ دیں گے یا نہیں، اس پر تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ ایران کو چاروں طرف سے گھیر کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

 

ادھر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) بھی ایران پر حملوں کے لیے تیار دکھائی دے رہی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے اپنی فوج کو ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران پر حملوں کی بحالی کے حوالے سے اسرائیل، ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

 

تاہم اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے امن مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ  عباس قریچی نے کہا کہ 47 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کی، مگر اسلام آباد معاہدے کے قریب پہنچ کر مذاکرات اچانک منہدم ہو گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسندانہ رویہ، اہداف میں تبدیلی اور دباؤ کی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑا، اور خبردار کیا کہ “نیکی کا جواب نیکی ہے، جبکہ برائی کا نتیجہ دشمنی ہی ہوتا ہے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button