تلنگانہ

عثمانیہ یونیورسٹی کو آکسفورڈ کے معیار پر ترقی دینے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان

چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ "عثمانیہ یونیورسٹی تلنگانہ کی پہچان ہے، یہ دونوں جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی میں 90 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ عمارتوں کا افتتاح کیا اور ڈجیٹل لائبریری و ریڈنگ رومس کی سنگ بنیاد رکھی۔

 

اس موقع پر وزیر اڈلوری لکشمن، ویم نریندر ریڈی، پروفیسر کودنڈا رام، عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کمار اور دیگر شریک تھے۔اس موقع ریونت ریڈی نے یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی وی نرسمہا راؤ، چننا ریڈی اور جے پال ریڈی جیسے قائدین اسی یونیورسٹی سے نکلے ہیں

 

۔ تلنگانہ تحریک کا اصل مرکز بھی عثمانیہ یونیورسٹی ہی رہی ہے جس نے تعلیم کے ساتھ جدوجہد کا سبق بھی دیا۔ انہوں نے یاد کیا کہ یادیہہ جیسے طلبہ تلنگانہ کے لئے قربان ہوئے۔ اسی یونیورسٹی نے ملک کو کئی آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران دیے ہیں اور اس کی تاریخ شاندار ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ سو برس میں پہلی مرتبہ کسی دلت کو وائس چانسلر مقرر کرنے کا اعزاز کانگریس حکومت نے حاصل کیا۔ سابق حکمرانوں نے سازش کے تحت یونیورسٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ نوجوان قیادت ملک کے لئے ضروری ہے اور اصل دولت نوجوان ہیں

 

۔ ان کے مطابق تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو حالات بدل سکتی ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کو صرف تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق کا مرکز بنانا چاہئے۔ جو لوگ طلبہ کے حق میں کام نہیں کرتے ان کی مخالفت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر دسمبر میں آرٹس کالج کے پاس جلسہ رکھا گیا تو وہ خود آئیں گے اور ہر کام کی منظوری دیں گے، اور کیمپس میں پولیس کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

 

اگر طلبہ سوال کریں تو وہ دیانتداری سے جواب دیں گے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ عثمانیہ یونیورسٹی کو آکسفورڈ کے معیار پر ترقی دینے کے لئے تیار ہیں، تمام سہولتیں فراہم کرنے کے لئے منصوبے بنائے جائیں، اس مقصد کے لئے ماہرین کی کمیٹی قائم کی جائے، اور حکومت فنڈز مہیا کرنے میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button