خود کشی مسائل کا حل نہیں _ عائشہ واقعہ پر امیر حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان کا اظہار رنج

حیدرآباد _ 4 مارچ ( پریس ریلیز)چند روز قبل گجرات کی احمد آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ نامی خاتون نے گھریلو تنازعات سے تنگ آکر انتہائی اقدام کیا۔ اور مرنے سے قبل اس نے جو ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا تھا۔ یہ ویڈیو اس وقت ساری دنیا میں وائرل ہو چکاہے۔ اور ہر صاحب دل انسان اس واقعہ سے انتہائی مغموم ہے اور سماج میں جس طرح جہیز کے نام پر معصوم لڑکیوں کا استحصال کیا جارہاہے یا سسرال میں لڑکیوں کے ساتھ غیر انسانی یا غیر اخلاقی سلوک کے واقعات سامنے آرہے ہیں یہ انتہائی افسوسناک ہیں۔ مسلم معاشرہ سے نامعقول رسومات کا خاتمہ ضروری ہے تو وہیں دوسری طرف خود کشی مسائل کا حل نہیں بلکہ غیر اخلاقی‘ غیر اسلامی اور غیر قانونی فعل ہے۔ ان خیالات کا اظہار محترم مولانا حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے اپنے صحافتی بیان میں کیا۔ مولانا نے کہا کہ عائشہ عارف خاں کے ساتھ پیش آئے واقعہ کے پیچھے چھپے کربناک حالات و واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اُنہو ں نے کہا کہ شادی کو سادی بنائیں۔ آج شادی بیاہ میں جو چیزیں رکاوٹ بن رہی ہیں یا مابعد شادی بھی لڑکیوں کی زندگیوں کو جسطرح اجیرن بنایا جارہا ہے وہ جہیز اور گھوڑے جوڑے کا مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ صرف اسلامی نہیں بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی سنگین ہے‘ اور سنگین تر بنتا جارہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اس واقعہ نے دیگر اقوام کے لوگوں کو بھی مسلم قوم پرطنز و ملامت کا موقع فراہم کیا ہے جب کہ اس طرح کے نامعقول رسومات کی اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے اس واقعہ نے ہمیں یہ بھی سوچنے پر محبور کردیا ہے کہ نہ جانے اور کتنے گھر سماج میں ایسے موجود ہیں جہاں اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو منظر عام پر نہیں آئے۔امیر حلقہ نے کہا کہ حال ہی میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ملک بھر میں ”مضبوط خاندان‘ مضبوط سماج“ مہم منائی گئی جس کا منشا بھی یہی ہے کہ ہمارے گھروں میں ا سلامی اقدار پروان چڑھیں‘ آپس میں ہم ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے بنیں اور اپنے گھروں کو اسلامی و مثالی گھر بنائیں۔ اللہ و رسولؐ کے احکامات پر عمل پیرا ہوئے بغیر اسلامی و مثالی خاندا ن کا وجود ممکن نہیں اور اس طرح مثالی خاندان کے بغیر مثالی سماج کا تصور ممکن نہیں۔ امیرحلقہ نے کہا کہ حالیہ واقعہ میں مظلوم لڑکی نے جس طرح انتہائی اقدام کیا ہے۔یہ بھی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔انسانی جان اللہ کی دی ہوئی امانت ہے اور قرآن کریم نے بھی اس طرح کے کام سے سختی سے منع کیا ہے اور احادیث میں بھی خودکشی پر سخت وعید ہے۔ لہٰذا اس طرح کے انتہائی اقدام سے گریز کریں‘ زندگی میں بعض مرتبہ سخت حالات سے گذرنا پڑتا ہے ایسے میں صبر‘ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں‘ زندگی ایک امانت ہے اِسے ضائع نہ کریں،جان کا مالک اللہ ہے اور صرف وہی جان لینے کا اختیار رکھتا ہے۔انسان اپنی جان کا بھی مالک نہیں ہے اس لئے وہ اپنی جان کو اللہ کی امانت مانے۔  مولانا نے کہا کہ اُمت مسلمہ کو کم از کم اب ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے تا کہ اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکے۔ اگر ہمارے قرب و جوار اور خاندان میں کوئی پریشان حال اور مجبور ہے تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اُن کی ہر طرح سے مد د کریں انھیں صحیح مشورہ دیں اور خوشگوار زندگی گزار نے کے راز سے لوگوں کو واقف کروائیں۔