ادب اطفال کو ادب عالیہ کا پہلا زینہ بنایا جائے،ادب گاہ کے زیر اہتمام یادگار ادبی نشست


نئی نسلوں کو اردو سے جوڑنے کے لئے ادب اطفال بہترین ذریعہ ہے، بچوں کی ذہنی سطح اور ان کی معصومانہ نفسیات کے مطابق دلچسپ انداز میں بچوں کا ادب تخلیق کر کے آنے والے دور کے اردو قاری کو ادب عالیہ سے جوڑنا آسان ہو سکتا ہے، ہر دور کے بڑے قلمکاروں نے بچوں کا ادب تخلیق کیا ہے، در حقیقت بچوں کے ادب پر کام کرنا بچوں کا کھیل نہیں، بچوں کا ادب بچہ بن کر لکھا جاتا ہے، مولانا حالی، علامہ اقبال، اسماعیل میرٹھی، یہاں تک کہ شمس الرحمن فاروقی، ندا فاضلی، ظفر گورکھپوری جیسے جدید شعراء نے بھی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ بچوں کے لئے نظمیں لکھی ہیں، عصر حاضر کے ادباء و شعراء کو بھی اس سمت میں فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے، ان خیالات کا ملا جلا اظہار دہلی سے تشریف لائے ہوئے ماہرین ادب اطفال سراج عظیم اور ڈاکٹر رضا الرحمن عاکف سنبھلی نے ادب گاہ کے زیر اہتمام ”کاشانہ وحید پر منعقدہ ادبی تقریب میں کیا، دونوں حضرات نے تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈمی سے شائع ہونے والے بچوں کے    رسالے ماہنامہ روشن ستارے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادب اطفال کی دنیا کا نیا سنگ میل ہے، صدر اجلاس ڈاکٹر سید عباس متقی نے حیدرآباد کے قلمکاروں اور شمالی ہند کے قلمکاروں کے باہمی ارتباط اور فروغ زبان و ادب کے سلسلے میں مشترکہ اور مخلصانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی، ڈاکٹر جاوید کمال نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ادب گاہ کی کار آمد اور خوش آئند سرگرمیوں کا ذکر کیا، انھوں نے کہا کہ ادب گاہ کے زیر اہتمام ہمیشہ سے ادب کی تعمیر کا کام ہوتا آیا ہے، مولانا ڈاکٹر سید عبدالمھیمن قادری لا ابالی سجاد پاشاہ نے جنوب و شمال کے ادبی سنگم کی ستائش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں یہ وابستگی ادبی انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، صدر ادب گاہ جناب سردار سلیم نے کہا کہ دہلی ہندوستان کا دارالحکومت ہے اور جنوبی ہندوستان میں حیدرآباد اردو کا دارالحکومت ہے جسے فرخندہ بنیاد، شہر نگاراں اور دیار محبت کے خوبصورت ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ یہ علاقہ روز اول سے اردو کا گہوارہ رہا ہے، مہمان نوازی اور ادب نوازی اس شہر کی پہچان ہے، وحید پاشاہ قادری نے مہمانوں کا استقبال کیا، پروگرام کا آغاز کمسن قاری علی احمد کی تلاوت سے ہوا۔اسماعیل قدیر نے نعت شریف پیش کی، سراج عظیم نے افسانے سناے اور نثری نظمیں بھی پیش کیں، ڈاکٹر عاکف سنبھلی نے   بچوں کی نظمیں پیش کیں، مشاعرہ کی صدارت سیف نظامی نے کی مشاعرہ کے دور میں صدر کے علاوہ جناب سردار سلیم، عاکف سنبھلی، سراج عظیم، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، ظفر فاروقی، فرید سحر، شکیل ظہیر آبادی، قاری انیس احمد، قابل حیدرآبادی، سید ماجد خلیل، سلطان محمود ایڈوکیٹ، سراج یعقوبی، وحید پاشاہ قادری، لطیف الدین لطیف نے اپنے کلام سے نوازا، خصوصی مدعوئین میں جناب اقبال رشید، مولوی عبدالکریم، معراج جعفری اور دیگر حضرات شریک تھے۔آخر میں صدر بزم کے شکریہ پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔