جنرل نیوز

کتاب "الرحیق المختوم” کا مطالعہ طلبہ اور طالبات کے لیے ذہنی و روحانی سکون کا باعث

گورنمنٹ سٹی کالج میں کتابوں پر تبصرہ پروگرام - طلبہ کا اظہار خیال-وائس پرنسپل کا اظہار خوشنودی

حیدرآباد 23ستمبر (اردولیکس )گورنمنٹ سٹی کالج، نیاپُل(حیدرآباد) کی مرکزی لائبریری میں سہ پہر 3 بجے کتابوں پر تبصرہ (Book Review) پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ و طالبات میں مطالعے سے دلچسپی پیدا کرنا اور انہیں کتابوں کے مطالعے کی جانب راغب کرنا تھا۔اس پروگرام میں دو طلبہ نے حصہ لیا۔

 

ان میں بی ایس سی سالِ دوم کے طالبِ علم محمد عدنان طارق اور بی کام سالِ دوم کی طالبہ شہزادی سدرہ زینب شامل تھے۔پروگرام میں چیف گیسٹ کے طور پر کالج کے وائس پرنسپل جناب راجندر سر نے شرکت کی، جو ہندی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی ہیں۔ اسی طرح اردو، سنسکرت، فزکس، اکنامکس، TSKC، لائبریری اور دیگر کئی شعبہ جات کے پروفیسرز نے بھی پروگرام میں شرکت کی لائبریری کے سربراہ اور اس پروگرام کے کنوینر جناب روی سر نے شرکاء اور پروگرام کا تعارف پیش کیا

 

اور تبصرہ کی جانے والی کتابوں کے بارے میں مختصر تفصیل بیان کیامحمد عدنان طارق کو کتاب پر تبصرہ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ تبصرہ نگار نے کتاب پر تبصرہ شروع کرنے سے قبل اردو زبان کی اہمیت، اس کے آغاز اور دوسری زبانوں کے ساتھ اس کے تعلق پر مختصر گفتگو کی۔ اس کے بعد انہوں نے مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کی معروف کتاب "الرحیق المختوم” پر تبصرہ پیش کیا۔ یہ کتاب حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر مشتمل ہے

 

اس کتاب کا سب سے سبق آموز پہلو جسے تبصرہ نگار نے خاص طور پر پیش کیا، وہ صلحِ حدیبیہ کا واقعہ تھا۔ اس واقعے میں کفار کی جانب سے ایسی شرائط رکھی گئی تھیں جو بظاہر مسلمانوں کے لیے کمزوری کا باعث محسوس ہوتی تھیں، لیکن بعد میں یہی صلح مسلمانوں کی کامیابی کا باعث بنی۔

 

تبصرہ نگار نے موجودہ دور کے حوالے سے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج جب طلبہ و طالبات میں روحانی اقدار کی کمی محسوس کی جاتی ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، ایسے وقت میں اس کتاب کا مطالعہ ان کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔تبصرے کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا، جس میں اساتذہ نے تبصرہ نگار سے مختلف سوالات کیے اور ان کے اطمینان بخش جوابات حاصل کیے۔ وائس پرنسپل جناب راجندر سر نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 

اس کے بعد دوسری تبصرہ نگار شہزادی سدرہ زینب نے مختصر طور پر اردو زبان کا تعارف پیش کیا اور پھر ڈاکٹر محمد دانش غنی کی کتاب "عصمت چغتائی کا افسانوی فن” پر تبصرہ کیا۔انہوں نے عصمت چغتائی کو ایک بے باک اور حقیقت پسند مصنفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے متوسط درجے کے گھرانوں کی زندگی کے مسائل کو اپنے افسانوں میں بڑی بے باکی اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے عصمت چغتائی کو اردو کی ایک بڑی قدآور مصنفہ قرار دیا۔

 

کتب خانے کے لائبریرین نے سدرہ کے اس بے باکانہ انداز کو سراہا۔ فزکس کے پروفیسر وشواگرو نے سدرہ سے چند سوالات کیے، جبکہ وائس پرنسپل اور دیگر پروفیسرز نے بھی اس موضوع پر اپنی آراء کا اظہار کیا۔پروگرام کے اختتام پر دونوں تبصرہ نگاروں کو تحفے کے طور پر ایک ایک کتاب پیش کی گئی پروگرام کے اختتام کے بعد بھی بعض اساتذہ نے دونوں تبصرہ نگاروں سے زبان اور کتاب کے بارے میں مزید معلومات دریافت کیں

 

اور اپنے اپنے طور پر ان کے اس قدم کو سراہا۔اس طرح یہ پروگرام تقریباً شام 4 بجے اپنی تکمیل کو پہنچا اور طلبہ و طالبات میں مطالعے اور کتابوں کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے مقصد کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button