حیدرآباد نامپلی فرنیچر شاپ آتشزدگی: 22 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد 5 نعشیں برآمد، بچوں سمیت خاندان تباہ
حیدرآباد کے نَامپلی میں واقع ایک فرنیچر شاپ میں ہفتہ کے روز پیش آنے والے ہولناک آتش زدگی میں عمارت کے اندر پھنسے 6 افراد میں سے 5 کی موت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
لگاتار 22 گھنٹوں سے زائد جاری ریسکیو آپریشن کے بعد اتوار کی صبح حکام نے پانچ نعشیں برآمد کرلیں۔آگ کی لپیٹ میں آکر مرنے والے پانچ افراد کی نعشوں کی شناخت کرلی گئی ہے اور انہیں عثمانیہ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مہلوکین میں اکھیل (7)، پرنیت (11)، حبیب (35)، امتیاز (32) اور بے بی (43) شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عمارت کی واچ مین بے بی اور اس کے دو بچوں کو بچانے کی کوشش میں امتیاز اور حبیب آگ میں پھنس گئے تھے
۔ تمام نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ آگ کی لپیٹ میں آنے والے ایک اور شخص کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام مہلوکین عمارت کے سیلر میں پھنس گئے تھے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ حادثے کے وقت عمارت میں مجموعی طور پر چھ افراد موجود تھے۔
واقعے کے بعد متاثرہ عمارت کی مضبوطی پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روز سے مسلسل شعلے بھڑکتے رہے جبکہ اب تک شدید دھواں اور گرمی محسوس کی جارہی ہے، جس کے باعث چار منزلہ عمارت کی پائیداری پر شکوک ظاہر کیے جارہے ہیں۔ اسی تناظر میں جے این ٹی یو کی انجینئرنگ ٹیم موقع پر پہنچ چکی ہے
، جو عمارت کا معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر حکام عمارت کے بارے میں آئندہ فیصلہ کریں گے۔دوسری جانب حیڈرا، پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملے نے باہمی تال میل کے ساتھ امدادی کارروائیاں کیں۔ مجموعی طور پر 9 محکموں کے عہدیداروں کی مشترکہ کوششوں سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن انجام دیئے گئے۔



