تلنگانہ

چینی مانجہ کی فروخت اور استعمال پر سخت کارروائی۔حیدرآباد پولیس کمشنر کا انتباہ

حیدرآباد: کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار آئی پی ایس نے سنکرانتی کے تہوار کے موقع پر چینی مانجہ کی فروخت اور استعمال کے بارے میں سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ ممنوعہ مانجہ نہ صرف پرندوں کی زندگی کے لیے خطرہ ہے بلکہ معصوم شہریوں، راہگیروں اور گاڑی سواروں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔

 

پولیس کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی شخص چینی مانجہ کی فروخت یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا، تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اسے کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے ان پر فوری کارروائی کی جائے گی۔

 

وی سی سجنار نے یہ بھی بتایا کہ چینی مانجہ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور شہر بھر میں اس کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ تہواروں کے دوران پتنگ بازی ایک خوشگوار روایت ہے، لیکن یہ کسی کی جان کے لیے خطرہ نہیں بننی چاہیے۔

 

پولیس کمشنر نے بتایا کہ چینی مانجہ مٹی میں تحلیل نہیں ہوتا اور یہ کئی سالوں تک ماحول میں موجود رہتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی بڑھتی ہے۔ انھوں نے یاد دہانی کروائی کہ 1986 کے ماحولیات تحفظ ایکٹ کے تحت چینی مانجہ کی تیاری، فروخت، ذخیرہ اور استعمال پر مکمل پابندی ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

 

اس سلسلے میں پولیس نے پتنگ فروخت کرنے والے مراکز، کرانہ دکانوں اور مشتبہ گوداموں پر چھاپے مارنے کے لیے ٹاسک فورس پولیس اور مقامی پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی طور پر چینی مانجہ منتقل کرنے والی ٹرانسپورٹ ایجنسیوں اور پارسل سروسز پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

کمشنر پولیس نے والدین سے خاص طور پر اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو چینی مانجہ کے استعمال سے روکیں، کیونکہ اس میں پلاسٹک اور شیشے کے ذرات ہوتے ہیں، جو موٹر سائیکل سواروں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، چینی مانجہ میں موجود دھاتی اجزاء برقی تاروں سے ٹکرا کر بچوں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف روایتی سوتی دھاگے استعمال کرنے کی ترغیب دیں۔ انھوں نے شہریوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اگر کسی کو کسی جگہ ممنوعہ چینی مانجہ فروخت یا ذخیرہ ہوتے نظر آئے تو فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔

 

پولیس کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button