تلنگانہ

تلنگانہ کے این آر آئی اپنی بھارتی شہریت ثابت نہ کر پانے پر غیر ملکی جیلوں میں مقید

جدہ _ 8 جنوری ( عرفان محمد) جدید ٹیکنالوجی کے تیزی سے فروغ کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک اپنی ڈیجیٹل ساخت، معاشی استحکام، انتظامی کارکردگی، سیکورٹی انتظامات اور شہریوں کی شناخت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے نئے اور سخت اقدامات اپنا رہے ہیں۔ ہندوستان میں حالیہ ایس آئی آر (SIR) اور آدھار سے متعلق متعدد اپ ڈیٹس نے بھی اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیا ہے۔

 

اگرچہ یہ اقدامات مجموعی طور پر مثبت نتائج دے رہے ہیں، تاہم معاشرے کے غریب اور خط غربت سے نیچے پر رہنے والے طبقات کے لئے بعض اوقات یہ سنگین مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ بالخصوص وہ افراد جن کے پاسپورٹ گم ہو چکے ہیں، میعاد ختم ہو چکی ہے یا جن کے پاس دستاویزی ثبوت موجود نہیں، وہ اپنی بھارتی شہریت ثابت نہ کر پانے کے باعث غیر ملکی جیلوں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور وطن واپسی کے لئے سفری دستاویزات حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

 

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بعض این آر آئیز کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بحرین میں دو برس تک جیل میں قید رہیں، حالانکہ اس معاملہ میں رکنِ پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی مداخلت کی تھی۔ ایک دوسرے واقعہ میں بی آر ایس کے سینئر قائد کے ٹی راما راؤ نے اپنے حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک این آر آئی کی مدد کرتے ہوئے اس کی بھارتی شہریت ثابت کرانے میں کردار ادا کیا۔

 

اسی طرح تلنگانہ سے تعلق رکھنے والا ایک غریب دلت شخص خلیجی ملک میں اس امید پر جیل میں قید ہے کہ وہ اپنی بھارتی شہریت ثابت کر کے وطن واپس آ سکے اور طویل جدائی کے بعد اپنے گھر والوں سے مل سکے۔

 

یہ شخص 59 سالہ منڈولا راجنا ہے، جو ضلع نرمل کے سون منڈل کا رہنے والا ہے۔ راجنا 2007 میں روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات  آیا تھا اور ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ ایک سال بعد وہ کمپنی چھوڑ کر فرار ہو گیا، جس کے بعد وہ وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہو گیا۔

 

راجنا ایک ناخواندہ اور درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والا شخص ہے، جو سابقہ عادل آباد ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس کے لئے اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنا ایک نہایت مشکل اور صبر آزما مرحلہ بن چکا ہے۔ اس کے پاس نہ پاسپورٹ کی کوئی نقل ہے، نہ اس کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہے۔

 

جب وہ 18 سال قبل ملک سے نکلا تھا، اس وقت آدھار لازمی نہیں تھا اور دیہی علاقوں کے کمزور طبقات کے کئی افراد کا اندراج ہی نہیں ہو پایا تھا۔ نہ اس نے کبھی اسکول کی تعلیم حاصل کی اور نہ ہی اس کے پاس کوئی تعلیمی یا انتخابی شناختی دستاویز موجود ہے۔

 

راجنا کے مطابق 2007 میں جب وہ شارجہ پہنچا تھا، اس وقت بایومیٹرک رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ اس کا پاسپورٹ اُس کمپنی کے پاس تھا جہاں وہ کام کرنے آیا تھا، جو اس زمانے میں ایک عام رواج تھا۔ کمپنی چھوڑنے اور بعد ازاں اس کے بند ہو جانے کے بعد پاسپورٹ یا اس کی نقل کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

 

قرض کے بوجھ تلے دبے راجنا، جو ایک بیٹے اور ایک بیٹی کا باپ ہے، نے تلنگانہ میں رائج گلف گولڈ لون نظام کے تحت سونا گروی رکھ کر رقم حاصل کی تھی۔ اس نظام میں لوگ تولہ کے حساب سے سونا لیتے اور واپسی پر اضافی وزن بطور سود ادا کرتے تھے۔ راجنا نے چار تولہ سونا لیا تھا اور چھ تولہ واپس کرنا تھا، مگر روزگار کے مسائل کے باعث وہ بروقت ادائیگی نہ کر سکا اور اسی وجہ سے غیر قانونی طور پر یو اے ای میں مقیم رہا۔

 

اگرچہ یو اے ای حکام نے وقتاً فوقتاً عام معافی (ایمنسٹی) اسکیموں کا اعلان کیا، جن کے تحت غیر ملکی بغیر کسی سزا کے ملک چھوڑ سکتے تھے، مگر راجنا ان اسکیموں سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ صحراؤں میں مزدوری اور مختلف چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے اس نے بالآخر اپنا قرض ادا کر دیا۔ اس دوران اس کے بچے نتیش (بیٹا) اور نکیتا (بیٹی) بڑے ہو گئے۔

 

بالآخر غیر قانونی قیام کے الزام میں راجنا کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی سفارت خانے کے عہدیداروں نے حراستی مرکز میں اس سے ملاقات کی، مگر اس سے پاسپورٹ کی نقل یا کوئی قابلِ قبول ثبوت طلب کیا گیا، جو وہ فراہم نہ کر سکا۔

 

اس کی اہلیہ لکشمی نے حیدرآباد میں چیف منسٹر کے شکایتی سیل اور ضلع نرمل کے کلکٹر سے رجوع کیا تاکہ شوہر کی بھارتی شہریت ثابت کرنے میں مدد مل سکے۔ خاندان کے پاس واحد دستاویز راجنا کے نام پر بینک کی فوٹو پاس بک ہے۔

 

ابوظہبی میں مقیم تلنگانہ این آر آئی کارکن جی نریندر کا کہنا ہے کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس معاملے میں کہاں اور کس سے رجوع کیا جائے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ سرکاری رہنمایانہ خطوط کے مطابق اپنی تمام دستاویزات مکمل اور محفوظ رکھیں، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے غیر متوقع اور تکلیف دہ مسائل سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button