نماز تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا راستہ ہے،حج ہاؤز کے اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

نماز تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا راستہ ہے،حج ہاؤز کے اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد 22آگسٹ (پریس ریلیز ) خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج وہ ابنے خطاب کرتےہوئے بتلایا کہ
نماز کی ادائیگی کو مسلمانوں پر فرضِ مقررہ وقت قرار دیا ہے اور اس کو اللہ کی یاد میں مصروفیت کا ذریعہ بتایا ہے، جس سے بندے کو سکون اور ہدایت ملتی ہے، اور جو کفار کے خلاف مددگار ثابت ہوتی ہے. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے، لہذا اس کی وقت پر ادائیگی ضروری ہے. نماز مومن کے لیے ہدایت، ایمان اور نور کا ذریعہ ہے. یہ جسمانی راحت اور روحانی سکون کا باعث بنتی ہے. نماز اللہ تعالیٰ کی یاد کی خاطر قائم کی جاتی ہے، جو بندے کو اپنے رب سے قریب کرتی ہے. نماز ایک ہتھیار کی مانند ہے جو مومن کو کفار اور برائیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے. نماز تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا راستہ ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ادائیگی سنتِ انبیاء ہے. ‘اور نماز (باجماعت) میں صف کو سیدھا رکھو، بے شک صف کی درستگی نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔” شریعت میں نماز کی ادائیگی کے لئے خشوع و خضوع پر بہت زور دیا گیا ہے اور خشوع و خضوع اخلاص اور یقین کی قوت حاصل کرنے کے لئے بار بار مشق کی ضرورت ہے۔ یاد رہے …حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت,کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے! میرے دل میں خیال آیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لئے اذان کہی جائے۔ پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں ایسے لوگوں کی طرف نکل جاؤں (جو بغیر کسی عذرِ شرعی کے نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ اسے ہڈی والا گوشت یا دو عمدہ پائے ملیں گے تو وہ ضرور نمازِ عشاء میں شامل ہوتا،یہ حدیث متفق علیہ ہےوہ احباب جو کسی بیماری یا بہت زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے نماز کے دوران قیام، رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز ہوتے ہیں مساجد میں ان کے لئے نماز کی ادائیگی کی خاطر کرسیاں رکھی جاتی ہیں۔ ان احباب کے لئے کرسیوں پر بیٹھ کر نماز اداکرنا جائز اور درست ہے مگر بعض لوگ محض اپنے آپ کو نمایاں کرنے، آرام طلبی کے لئے یا کپڑوں میں سلوٹیں پڑنے سے بچنے کے لئے ان کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں، ان احباب کی نماز ہر گز جائز نہیں۔
اسلام دین فطرت ہے۔ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جسے بجا لانا انسان کے بس میں نہ ہو۔ نماز، روزہ، زکوۃ، حج بلکہ ایمان کا اقرار بھی اگر انسان کے بس میں نہ ہو تو ضروری نہیں۔ ہاں دل سے تصدیق جو اصل ایمان ہے اس میں فرق نہ آئے۔ تمام عبادات و احکام کی فرضیت طاقت و استطاعت سے مشروط ہے۔ جس حکم پر عمل کرنے کی انسان میں استطاعت ہی نہیں وہ فرض ہی نہیں۔ توحید و رسالت کے اظہار و اقرارمیں جان جانے کا خطرہ ہے تو نہ کریں، تصدیق قلبی کافی ہے۔ وضو و غسل یعنی طہارت کے لئے پانی استعمال کرنا ممکن نہیں تو تیمّم کر لیں۔ رکوع و سجود کی طاقت نہیں تو اشارہ سے نماز ادا کریں۔ قیام نہیں کر سکتے تو بیٹھ کر اور بیٹھنا بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر نماز ادا کریں۔ قبلہ کی سمت معلوم نہیں یا جان کو خطرہ ہے تو جس طرف ممکن ہو نماز ادا کریں۔ بیماری یا کمزوری ہے تو روزہ نہ رکھیں، فدیہ دیں اور اگر فدیہ کی توفیق نہیں تو معاف ہے۔ نصاب بھر مال نہیں یا اس پر سال نہیں گذرا یا حاجات اصلیہ سے زائد نہیں تو زکوۃ فرض نہیں۔ حج کی استطاعت نہیں تو حج فرض نہیں۔ علی ہذا القیاس اسلام کا کوئی حکم یہاں تک کہ نفس ایمان کا اظہار و اقرار بھی استطاعت سے مشروط ہے۔
بعض لوگوں کی کمر میں سخت درد ہوتا ہے وہ رکوع و سجود کے لئے جھک نہیں سکتے شرعاً وہ سر کے اشارہ سے نماز ادا کر سکتے ہیں۔ کھڑے نہیں ہو سکتے تو بیٹھ کر اور بیٹھ نہیں سکتے تو قبلہ رخ چت لیٹ کر سر کے اشارہ سے رکوع و سجود کریں۔ اس لئے کہ جب کسی حکم پر بعینہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو اس کے لئے شرعاً سہولت ہے۔ یہ سہولت خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے۔ کس کی ہمت ہے جو مسلمانوں کو اس سے محروم کرے۔علامہ شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد الخطیب التمرتاشی (م 1004ھ) اپنی کتاب ’’تنویر الابصار‘‘ میں لکھتے ہیں اور علامہ محمد بن علی علاء الدین الحصفکی (1088ھ) اس کی شرح الدرالمختار میں فرماتے ہیں :
’’نمازی اپنے چہرہ کی طرف کوئی چیز اٹھا کر اس پر سجدہ نہ کرے یہ مکروہ تحریمہ ہے‘‘۔
علامہ محمد امین الشہیر بابن عابدین الشامی (م 1252ھ) اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’یہ اس صورت میں ہے جب نمازی اپنے چہرہ کی طرف کوئی چیز اٹھا کر اس پر سجدہ کرے، اس کے خلاف جب کوئی چیز زمین پر رکھی ہو اور اس پر عذر کی بنا پر سجدہ کرے تو مکروہ نہیں‘‘۔ پھر فرماتے ہیں :اگر تکیہ زمین پر رکھا ہو اور ا س پر سجدہ کرے تو اس کی نماز درست ہے، صحیح حدیث پاک میں ہے سیدہ ام المومنین ام سلمہ سلام اللہ علیہا اپنی بیماری کی وجہ سے اپنے سامنے رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس سے منع نہیں فرمایا، مقابلہ اور استدلال کا مفاد یہ ہے کہ زمین پر رکھی ہوئی اونچی چیز پر (عذر کی بناء پر سجدہ کرنا) مکروہ و ناجائز نہیں۔ پھر میں نے امام قہستانی کی تصریح بھی دیکھی ہے۔ (شامی ج 2 ص98 )
’’حقیقت مفصلہ یہ ہے اگر (کرسی وغیرہ پر بیٹھا ہوا معذور) صرف سر کے اشارہ سے، جھکے دبے بغیر رکوع کرتا ہے اور کمر نہیں جھکاتا تو یہ اشارہ ہوگا رکوع نہیں۔ اس اشارہ کے بعد سجدہ کرنے کا اعتبار نہ ہوگا اور اشارہ کمر جھکا کر کرتا ہے تو یہ رکوع معتبر ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ صحیح ہوگا‘‘۔’’اگر معذور کے آگے رکھی ہوئی چیز ایسی ہے جس پر سجدہ کرنا درست ہے مثلاً پتھر (کرسی) وغیرہ اور ایک دو اینٹوں کی مقدار سے اس کی اونچائی زیادہ نہیں تو یہ حقیقی سجدہ ہوگا۔ اب یہ نمازی اشارہ کر کے نماز ادا کرنے والا نہ ہوا، رکوع و سجود کرنے والا ہوا اور اگر سامنے رکھی ہوئی چیز ایسی نہیں (کہ جس پر سجدہ کرنا ممکن ہو) تو یہ نمازی اشارہ کرنے والا ہوگا، اس کے پیچھے قیام کرنے والے کی اقتداء درست نہ ہوگی۔ (اس کی اپنی نماز درست ہے)۔۔۔۔‘‘
’’بلکہ میرے لئے تو یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ معذور شخص اگر کوئی ایسی چیز زمین پر رکھ سکتا ہے جس پر سجدہ کرنا درست ہے تو اس پر ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ وہ حقیقت میں رکوع و سجود پر قادر ہے اور قدرت ہوتے ہوئے ان دونوں میں اشارہ کرنا درست نہیں بلکہ اشارہ کرنے کی تو شرط ہی یہ ہے کہ رکوع و سجود دونوں مشکل ہیں۔ یہی اس مسئلہ کا موضوع ہے‘‘۔ (ردالمختار شامی ج 2، ص 99، )
’’اگر (معذور) نمازی کے سامنے تکیہ رکھا گیا اور اس نے اس پر پیشانی جما کر رکھ لی اور کسی قدر جھکاؤ پایا گیا تو اس اشارہ سے نماز درست ہے اور اگر ذرہ بھی جھکاؤ نہ پایا گیا تو نماز جائز نہیں‘‘۔ (البحرالرائق ج 2، ص113، )’’اگر بیمار نے سجدہ کرنے کے لئے کوئی چیز اٹھائی جبکہ وہ زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا جائز نہیں۔ مگر اس صورت میں کہ سجدہ کے لئے رکوع کی بہ نسبت سر زیادہ جھکائے پھر وہ چیز اپنی پیشانی سے لگائے یہ جائز ہے۔ اس لئے کہ جب سجدہ کرنے سے عاجز آگیا، تو اس پر اشارہ لازم ہوگیا اور سامنے اٹھائی چیز پر اشارہ سے سجدہ نہیں ہوسکتا مگر اس وقت جب سر کو حرکت دے اب نماز درست ہوگئی کہ اشارہ پایا گیا، نہ کہ اس چیز پر سجدہ کی وجہ سے۔(البحرالرائق ج 2 ص 113 )
منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں علامہ شامی فرماتے ہیں :’’اگر سامنے رکھی ہوئی چیز ایسی ہے جس پر سجدہ درست ہے تو یہ مریض کا سجدہ ہوگا، اگر نہیں تو اشارہ۔ (علی ھامش البحرالرائق ج 2 ص 114 )’’لہذا نماز ہر صورت میں درست ہے‘‘۔ (ہدایہ مع فتح القدیر ج 2 ص 458 طبع سکھر)معذور شخص اپنے چہرہ کی طرف کوئی چیز اٹھا کر اس پر سجدہ نہ کرے۔۔۔ فان فعل ذلک وهو يخفض راسه اجزاه لوجود الايماء. اگر کسی چیز کو اٹھا کر اس پر سجدہ کر لیا اور سر جھکا لیا تو نماز درست ہے کہ اشارہ پایا گیا۔ (ہدایہ ج 1 ص 458 مع فتح القدیر)، (شامی، ردالمختار ج 2 ص 98 )’’اگر تکیہ زمین پر رکھا ہے اور نمازی اس پر سجدہ کرتا ہے تو اس کی نماز درست ہے (یونہی کرسی پر)۔ اس روایت کی وجہ سے جو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ آشوب چشم کی وجہ سے اپنے سامنے رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔ یونہی تندرست آدمی شہر سے باہر ہو اور کسی عذر کی وجہ سے سواری کے جانور سے نیچے نہ اتر سکے مثلاً دشمن یا درندہ کا ڈر یا گارے کیچڑ میں ہے تو وہ جانور کے اوپر بیٹھ کر اشارے سے فرض ادا کرے۔ نہ رکوع کرے اور نہ سجدہ کیونکہ ان اعذار کے وجود سے آدمی قیام، رکوع اور سجدہ جیسے ارکان کے ادا کرنے سے عاجز ہے۔ اب وہ ایسے ہے جیسے بیماری کی وجہ سے عاجز ہوجائے اور سر کے اشارہ سے ان فرائض کو ادا کرے‘‘۔’’جب بیمار کھڑا ہونے سے عاجز ہو، بیٹھ کر رکوع و سجود سے نماز ادا کرے، عاجز ہونے کا مطلب اور صحیح تر تفسیر یہ ہے کہ اسے کھڑا ہونے سے تکلیف ہو، یا بیماری بڑھنے یا صحت میں تاخیر ہو یا سر کو چکر آئے یا اس سے درد ہو، محض تھکاوٹ عذر نہیں۔ اگر کچھ حصہ کھڑا ہوسکتا ہے باقی نہیں تو جتنا ممکن ہے قیام کرے پھر بیٹھ جائے۔مریض جب بیٹھ کر نماز ادا کرے تو کیسے بیٹھے؟ صحیح تر یہ ہے کہ جیسے آسانی ہو۔ اگر سیدھا نہیں بیٹھ سکتا تو انسان، تکیہ یا دیوار سے ٹیک لگاسکتا ہے اور بیٹھنا واجب ہے۔
اگر قیام، رکوع اور سجود سے عاجز ہے تو بیٹھ کر اشارہ سے ادا کرے، سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے نیچے کرے، دونوں کو برابر نہ رکھے۔
اشارہ سے نماز ادا کرنے والے کو مکروہ ہے کہ اس کے لئے لکڑی یا تکیہ نہ اٹھایا جائے کہ وہ اس پر سجدہ کرے۔ اگر ایسا کیا گیا تو دیکھا جائے گا کہ اگر اس نے رکوع کے لئے سر جھکایا اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لئے زیادہ سر جھکایا تو اس کی نماز درست ہے۔مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آخر میں بتلایا کہ ان تمام دلائل شرعیہ کی رو سے معذور اشخاص جن کی کمر وغیرہ میں تکلیف ہے اور وہ کرسی وغیرہ پر سکون سے بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر قیام کر سکتے ہیں تو قیام کریں، رکوع کر سکتے ہیں تو رکوع کریں پتھر، لکڑی یا تکیہ پر سجدہ کر سکتے ہیں تو کریں۔ اگر جھکنے میں تکلیف و درد شدت سے محسوس ہو تو مت جھکیں، رکوع و سجود سر کے اشارہ سے کریں۔ رکوع میں سر کا جھکاؤ کم اور سجدہ کے لئے زیادہ ہو۔ اگر تکیہ یا تختہ جو لکڑی پلاسٹک یا لوہے وغیرہ سے بنا ہوا ہے جس پر سجدہ کے وقت پیشانی اچھی طرح سے جم جاتی ہے تو یہ سجدہ شرعاً درست اور نماز صحیح ہے۔