نیشنل

فلم اداکار رضا مراد کے انتقال کی افواہ سوشل میڈیا پر پھیلادی گئی

ممبئی: بالی ووڈ کے سینئر اداکار رضا مرادنے جمعہ کے روز ممبئی کے امبولی پولیس اسٹیشن میں ایک سرکار شکایت درج کروائی جس میں الزام لگایا گیا کہ سوشل میڈیا پر ان کی موت کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی ہے جس کے باعث وہ بار بار وضاحت دیتے دیتے ’’تھک‘‘ گئے ہیں۔

 

اداکار نے کہا کہ اس افواہ نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا اور انہیں بارہا یہ کہنا پڑا کہ وہ زندہ ہیں۔ رضا مراد نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ سوشل میڈیا پر ان کی موت کا مذاق بنایا گیا۔ اداکار نے بتایا ’’کسی نے سوشل میڈیا پر یہ

 

 

پوسٹ ڈالی کہ میں فوت ہوگیا ہوں۔ اس میں میری تاریخِ پیدائش کے ساتھ ایک جعلی تاریخِ وفات بھی لکھی گئی اور تعزیتی پیغام تک دیا گیا۔ لکھا گیا کہ میں نے کئی برس فلموں میں کام کیا مگر اب کوئی یاد کرنے والا نہیں۔ یہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔‘‘

 

 

انہوں نے مزید کہا: ’’لوگوں کو بار بار بتاتے بتاتے میرا گلا، زبان اور ہونٹ سوکھ گئے ہیں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ جھوٹی خبر ہر جگہ پھیل گئی ہے۔ دنیا بھر سے مجھے کالز اور پیغامات آرہے ہیں، حتیٰ کہ لوگ وہ پوسٹ بھیج کر تعزیت کر رہے ہیں۔‘‘

 

 

’’انہوں نے میری شکایت درج کرلی گئی ہے اور ایف آئی آر بھی درج کی جارہی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اصل ملزم کو پکڑ کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت

 

 

ایکشن ہونا چاہیے ’’یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ یہ صرف میرے ساتھ نہیں، بلکہ کئی مشہور شخصیات کے ساتھ ہوتا ہے کہ انہیں قبل از وقت ’مردہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے اور ایسا کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔‘‘

 

 

رضا مراد 1970 کی دہائی سے اب تک 250 سے زائد ہندی، بھوجپوری اور دیگر علاقائی زبانوں کی فلموں میں اپنی اداکاری کا جادو دکھا چکے ہیں۔ ان کی گہری اور بھاری آواز نے انہیں منفرد مقام عطا کیا۔ وہ جہاں خوفناک ولن کے طور پر مشہور

 

 

ہیں وہیں ہمدرد اور بھائی جیسے کرداروں میں بھی ناظرین کے دل جیتے۔ ان کی یادگار فلموں میں پریم روگ اور پدماوت جیسیفلمیں بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button