نیشنل

سری دیوی کی جائیداد پر قبضہ۔ بونی کپور عدالت سے رجوع

نئی دہلی: مشہور فلم پروڈیوسر بونی کپور نے اپنی متوفی اہلیہ اور نامور اداکارہ سری دیوی کی جائیداد پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مدراس ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ بونی کپور کا الزام ہے کہ تین

 

 

افراد نے دھوکہ دہی کے ذریعے اس جائیداد کے حقوق اپنے نام کر لیے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے کیونکہ سری دیوی نے یہ جائیداد اپنی محنت کی کمائی سے خریدی تھی۔

 

 

تفصیلات کے مطابق اپریل 1988 میں سری دیوی نے مدراس میں ایم سی سمبند مدلیار نامی شخص سے یہ جائیداد خریدی تھی۔ بونی کپور نے بتایا کہ اس وقت سمبند مدلیار کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور ان سب کی طرف سے

 

وراثتی سرٹیفکیٹ دیکھنے کے بعد ہی سری دیوی نے یہ جائیداد خریدی تھی۔ تاہم حال ہی میں سمبند مدلیار کی دوسری بیوی کے بیٹوں نے دعویٰ کیا کہ اس جائیداد میں ان کا بھی حصہ ہے اور انہوں نے تحصیلدار کے دفتر میں

 

درخواست دائر کی۔ بونی کپور کا کہنا ہے کہ سرکاری حکام نے غیر قانونی طور پر ان کے حق میں فیصلہ دے کر اس جائیداد کی ملکیت ان کے نام کردی ہے۔بونی کپور نے عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اور جعلی

 

 

دستاویزات منسوخ کی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان کی اہلیہ سری دیوی زندہ تھیں تب ہی مدلیار نے دوسری شادی کی تھی جو ان کے دعوے کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑا کرتی ہے۔

 

 

مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس آنند وینکٹیش نے اس معاملے پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور ساتھ ہی تامبرم تعلقہ کے تحصیلدار کو وضاحت پیش کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔واضح رہے کہ بونی کپور نے 1996 میں

 

سری دیوی سے شادی کی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں ،سال 2018 میں سری دیوی فوت ہوگئیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button