ضلع کلکٹر نظام آباد نے منگل کی رات شہر کے ناگارام اقلیتی اقامتی اسکول و کالج بوائز کا اچانک معائنہ کیا

ضلع کلکٹر نظام آباد نے آج رات شہر کے ناگارام اقلیتی اقامتی اسکول و کالج بوائز کا اچانک معائنہ کیا
تعلیمی اوقات کار کی پابندی نہ کرنے پر برہمی ظاہر کی
نظام آباد: 26 اگست(محمد یوسف الدین خان نمائندہ اردو لیکس )ضلع کلکٹر ٹی ونئے کرشنا ریڈی نے اپنا جائزہ حاصل کرنے کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں کی مسلسل اچانک تنقیح کرتے ہوئے معائنہ کریں ، نظام آباد کے مضافاتی علاقہ ناگارام میں قائم اقلیتی اقامتی اسکول و کالج کا معائنہ کیا۔ضلع کلکٹر نے رہائشی اسکول میں اس بات کا جائزہ لیا کہ طلباء کی تعداد کے مطابق رومس اور دیگر دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔
ضلع کلکٹر نے پرنسپل کرن سے استفسار کیا کہ انگریزی میڈیم میں تدریسی تعلیم دینے کیلئے فیکلٹیز کی تعداد خاطر خواہ ہے کلکٹر نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ کالج میں پڑھائی کے اوقات کار جاری تھے تاہم اسکول کے طلباء مطالعہ کے اوقات میں موجود نہیں تھے۔ ضلع کلکٹر نے سوال کیا کہ رات کے کھانے کے بعد رات 9 بجے تک مطالعہ کے لئے اوقات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں
۔ انہوں نے اس بات پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا اگر طلباء کے اوقات کار کا انعقاد نہیں کیا گیا تو وہ اپنی پڑھائی میں کس طرح سبقت حاصل کریں گے۔ انہوں نے ڈائنگ ہال کی حالت زار پر عملے کی سرزنش کی۔ ضلع کلکٹر نے اقلیتی رہائشی تعلیمی اداروں کے لیگل کوآرڈنیٹر بشیر کو بذریعہ فون طلب کیا اور انہیں سخت نگرانی کرنے کی ہدایت دی
۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ انگریزی، ریاضی، جنرل سائنس جیسے اہم مضامین میں پڑھائی میں کمزور رہنے والے طلباء کی نشاندہی کی جائے اور ایسے طلباء پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔ ضلع کلکٹر نے کچن، ڈائننگ ہال، ڈارمیٹری اورا سٹور رومز کا دورہ کیا اور چاول کے ذخیرے، سبزیوں کے معیار اور سامان کے ا سٹاک کا معائنہ کیا
۔ انہوں نے منتظمین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی حالت میں معیاد ختم ہونے والی اشیاء استعمال نہ کریں۔ضلع کلکٹر نے اسکول کے احاطے اور اطراف کو صاف ستھرا رکھنے اور کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ ہونے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ضلع کلکٹر نے مینو ٹیبل کا جائزہ لینے اور طلباء کو مینو کے مطابق غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کا مشورہ دیا اور حاضری کے رجسٹر کی جانچ کی کہ کالج اور اسکول میں کتنے طلباء زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنے فرائض پوری لگن کے ساتھ انجام دیں۔
اوقات کار پر پابندی کے ساتھ عمل آوری کریں تاکہ طلباء کے مستقبل کو درخشاں بنانے کی راہ ہموار کی جاسکے۔