جناب غیاث الدین بابو خان کو عبداللہ کوثر نظام آبادی کی تعزیت

بوسٹن امریکہ27/اگست (اردو لیکس) ملک بھر کی ملی، فلاحی تعلیمی،سماجی، معاشی شخصیت عظیم جہد کار جناب غیاث الدین بابو خان (سابقہ ریاستی وزیر جناب بشیر الدین بابو خان مرحوم) کے بھائی کے سانحہ ارتحال پر عبداللہ کوثر نظام آبادی( این آر آئی) حال مقیم امریکہ نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ملت اسلامیہ کے لئے انجام دی گئی خدمات کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا انہوں بتایا کہ جناب بشیر الدین بابو خان مرحوم نے ان کا تعارف جناب غیاث الدین بابو خان سے 1992ء میں کروایا تھا اور ان سے مراسم برقرار رہے وطن واپسی پر جناب غیاث الدین بابو خان سے ان کی شخص ملاقات کئے بغیر امریکہ واپسی نہیں ہوا کرتی تھی جناب غیاث الدین بابو خانہ جب کبھی امریکہ پہنچتے ان ملاقاتیں ہوا کرتی تھی۔جناب عبداللہ کوثر نے کہا کہ غیاث الدین بابو خان ملت اسلامیہ کے لئے جو خدمات انجام دی وہ ناقابل فراموش ہے ان کی خدمات کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ نیک اوصاف، عزم و حوصلے کی حامل شخصیت تھے ان کے سانحہ ارتحال سے ملت اسلامیہ کو عظیم نقصان ہوا ہے جسکی تلافی نہیں کی جاسکتی جناب غیاث الدین بابو خان اپنے بھائی جناب بشیر الدین بابو خان کے سیاسی مشیر خاص تھے تمام معاملات میں ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ جناب بشیر الدین بابو خان مرحوم کو متحدہ ریاست آندھراپردیش کے
اسمبلی انتخابات دوران بشیر الدین بابو خان کامیابی سے ہمکنار کروانے میں ان کا ایک اہم کلیدی رول رہا دوسری جانب ملک بھر بلخصوص آندھراپردیش و تلنگانہ
کے مختلف مواضعات اور شہروں میں انہوں تعلیمی اداروں کا جال بچھایا اور تعلیمی و سماجی انقلاب برپا کیا انہوں نے کہاکہ حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیر ٹیبل ٹرسٹ اور غیاث الدین بابو خان ٹرسٹ کی جانب سے ہزاروں غریب، یتیم اور مستحق مگر ہونہار طلباء وطالبات کو گذشتہ 32 سالوں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بڑے پیمانے پر
اسکالرشپ فراہم کی گئی جس کے نتیجہ میں قریہ قریہ قصبہ قصبہ اور شہری سطح پر خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے طلباء وطالبات کو ڈاکٹرس، انجینئرس و وکلاء دیگر پیشہ ورانہ شعبوں سے منسلک ہوگئے عبد اللہ کوثر نے کہا کہ جناب غیاث الدین بابو خان نے تعلیمی و فلاحی، سماجی کاموں کے انجام دہی کے سالانہ 10 کروڑ تخمینہ کی منصوبہ بندی کے ذریعہ انصاف وشفافیت کے ساتھ عمل آوری کو یقینی بنایا جو قابل ستائش و تقلید اقدام ہے عبد اللہ کوثر نے بتایا کہ 2002 ءمیں ریاست گجرات میں پیش آئے مسلم نسل کشی کے بربریت و المناک فسادات کے دوران جناب غیاث الدین بابو خان فسادات سے متاثرہ خاندانوں کی باز آباد کاری کے لئے شخص طور پر قیام کرتے ہوئے کروڑوں روپوں کی متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم عمل لائی غیاث الدین بابو خان مرحوم نے نوجوان بیواؤں کی دوبارہ شادی کی مہم کا آغاز کیا اور ہزاروں کے بیواؤں کے گھر آباد کئے عبد اللہ کوثر نے کہا کہ جناب غیاث الدین بابو خان انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے گئے ان کے اس مشین کو ان کے جانشین جاری رکھیں گے اور اس کے اجر و ثواب کا تسلسل غیاث الدین بابوخان، بشیر الدین بابو خان مرحومین کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور ملتا رہے گا عبداللہ کوثر نے مرحوم کے حق دعامغفرت کی اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے صبر جمیل کی تلقین کی۔