جنرل نیوز

حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ: اتحادِ امت کے عظیم علمبردار”مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ: اتحادِ امت کے عظیم علمبردار”مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

حیدرآباد 28آگسٹ (پریس ریلیز ) خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے ماہ ربیع الاول شریف کی چوتھی نشست بعنوان حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے بتلایا کہ حضور پاک علیہِ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:میرا یہ بیٹا سیّد ہے یعنی میری امت کی مشکلات کو حل کرے گا، اُن کی مدد کرے گا، اُن کو بحران سے نکالے گا اور پھر اُس کی وضاحت بھی فرما دی کہ یعنی یقینا ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کے دو بڑے گروہ آپس میں ٹکرائیں گے اور امت میں ایک بہت بڑا انتشار ہو گا۔ میری امت ٹکڑے ہو رہی ہوگی، دو بڑے گروہوں میں بٹ چکی ہوگی، دونوں طرف مسلمان ہوں گے اور میرا یہ بیٹا اُن میں صلح کرا دے گا، صلح کرانے کی وجہ سے اپنی قربانی کے ذریعے امت کو وحدت اور یکجہتی دے دے گا۔ (اس لیے میں اس کو مسلمانوں کی قوم کا سردار و سیّد قرار دے رہا ہوں۔)حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امام حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق اس فرمان کا عملی اظہار اس وقت سامنے آیا جب حضرت مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کی شہادت ہو گئی تو مسلمانوں میں دو گروہ بن چکے تھے، ایک گروہ تھا جس نے مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں الگ حکومت کا اعلان کر دیا تھا اور سلطنت بنا لی تھی جبکہ دوسرا گروہ خلافت حقّہ راشدہ کا تسلسل تھا، وہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی جس کا دارالحکومت پہلے مدینہ تھا، بعد میں کوفہ ہوا۔حضرت علی کی شہادت کے بعد بنو امیہ کی سلطنت دمشق میں قائم ہوگئی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اُس کے حاکم بنے، وہ خلیفہ راشد نہیں تھے۔ خلافت راشدہ کے تیس سال مولیٰ علی شیر خدا کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ کے چھ ماہ ملاکر مکمل ہوتا ہے۔ اس موقع پر امت دو حصوں میں بٹ گئی تھی، امت کا ایک حصہ وہ تھا جس کا دارالحکومت کوفہ تھا۔ حرمین شریفین، حجاز، کوفہ اور گرد و نواح کے لوگ جو اہل بیت اَطہار کو چاہتے تھے، وہ اس حکومت کے ساتھ وابستہ تھے اور ایک دار الحکومت دمشق بن چکا تھا۔ بنو اُمیہ اور شام کے ساتھ ملحقہ علاقے ان کے تابع تھے۔گویا شروع میں امت کے دو دار الحکومت، دو لشکر، دو جماعتیں، دو ٹکڑے بن گئے تھے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا تو پوری امت بٹ جاتی اور امت میں کلیتاً وحدت و یک جہتی ختم ہوجاتی کیونکہ اب تو خلافت راشدہ نہیں رہی تھی، لہذا ہر کوئی اپنی اپنی جگہ ڈٹ جاتا۔ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی حکومت خلافت راشدہ کا تسلسل تھی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملوکیت کی بنیاد رکھنے والے تھے، اِن سے ملوکیت کا آغاز ہوا اور خلافت راشدہ ختم ہوگئی۔ اس لئے کہ انہوں نے وراثت میں حکومت آگے منتقل کی جبکہ خلافت راشدہ میں کسی نے سلطنت کو وراثت میں نہیں دیا۔

آقا علیہ السلام نے اپنی وراثت میں کسی کو مقرر نہ کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر چھوڑ دیا کہ وہ جس کو مرضی خلیفہ بنالے۔ اس طرح سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وراثت میں حکومت اپنے کسی بیٹے کو منتقل نہ کی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی حکومت وراثت میں اپنے بیٹے کو منتقل نہ کی، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا نہ کیا کہ اپنے خاندان میں حکومت کسی کو منتقل کر دیں، اسی طرح سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایسا نہ کیا کہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ یا امام حسین رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہو۔ سب نے امت کے اختیار، اجتہاد اور مشاورت پر چھوڑ دیا۔ پس اِدھر بنیاد سچی جمہوریت کی تھی جبکہ اُدھر بنیاد شہنشاہیت و ملوکیت کی تھی۔

 

ان حالات میں اگر امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کوفہ کو دارالحکومت بناتے ہوئے اپنی حکومت جاری رکھتے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار نہ ہوتے تو پھر اُن کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوتے، پھر امام علی زین العابدین رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوتے اور اس طرح تسلسل سے دو حکومتیں چلتی رہتیں۔ ایک کو خانوادہ اہل بیت چلاتا اور دوسری طرف شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے متعلقین اپنی حکومت جاری رکھتے۔ نتیجتاً پوری امت سیاسی اعتبار سے بٹ جاتی اور دو دارالحکومت ہوتے۔ آپ تصور کر لیں کہ کیا حال ہوتا۔ اس کا اثر یہ ہوتا کہ مزید فتوحات نہ ہوتیں بلکہ امت کے دو لشکر آپس میں لڑتے لڑتے امت کو کمزور کرتے رہتے۔

آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ حسن رضی اللہ عنہ میرا رزق ہے، یعنی ان سے مجھے فائدہ پہنچے گا، میرے دین اور میری امت کو نفع پہنچے گا۔ لہذا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کو withdraw کر لیا اور آقا علیہ السلام کے دین اور امت کی بہتری کے لیے، حضور کی امت کو نفع پہنچانے کے لیے خود پیچھے ہٹ گئے اور ساری امت کو جوڑ کر ایک وحدت دے دی۔ بنو امیہ کا یہ دور 92 برس رہا۔ خرابیاں اُس کے اندر تھیں، وہ اسی طرح رہیں مگر سیاسی اعتبار سے پوری عالمی سطح پر امت مسلمہ ایک بڑی قوت بن گئی اور فتوحات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا اور امت ایک عظیم طاقت بنتی چلی گئی۔

 

بنو امیہ کے بعد بنو عباس آئے، پھر درمیان میں تاتاری فتنے کی وجہ سے انقطاع کا عرصہ آیا، پھر خلافت عثمانیہ سات سو سال تک رہی، اس طرح جنگ عظیم اول سے پہلے پہلے تک بارہ سو سال پورے کرۂ ارضی پر سب سے بڑی سلطنت اسلام کی رہی۔ کئی اندرونی خرابیوں اور خلفشاروں کے باوجود من حیث المجموع اتنی بڑی قوت کے بانی اور اس کے محسن سیدنا امام حسن مجتیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔

انہی آنے والے حالات کو دیکھتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: حسن میرا رزق ہے، اس سے میرے دین اور امت کو نفع پہنچے گا، اسلام کو نفع پہنچے گا۔ گویا امام حسن رضی اللہ عنہ سیّد و ’سردار‘ ہیں کہ انہوں نے امت کو بحران سے نکالا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button