قبرستان کی زمین مانگنے والے مسلمانوں پر ایف آئی آر۔ ‘کانگریس’ حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب: عبداللہ سہیل

حیدرآباد، 28 اگست: بی آر ایس کے سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی ہے کہ اس نے جوبلی ہلز اسمبلی حلقے میں پرامن احتجاج کرنے والے عام مسلمانوں پر ایف آئی آر درج کر کے ان کی جائز مانگ کو دبانے کی کوشش کی ہے جو کہ برسوں سے زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ اصل مطالبہ کو خاموش کیا جا سکے۔
عبداللہ سہیل نے براہ راست وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو اس پولیس کارروائی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ کیس معمولی قانون و انتظام کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے فرقہ وارانہ ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا،”یہ ایف آئی آر کوئی اتفاقیہ قدم نہیں بلکہ ریونت ریڈی حکومت کی فرقہ پرست سوچ کی عکاسی ہے۔ مسلمانوں کی ایک جائز مانگ کو پورا کرنے کے بجائے کانگریس حکومت انہیں مجرم بنا رہی ہے کیونکہ وہ اپنے پیاروں کو عزت سے دفنانے کے لیے زمین مانگ رہے ہیں۔”
یہ ایف آئی آر کرائم نمبر 529/2025 کے تحت بورابنڈہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی اور محترم تیسرے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، نامپلی کے سامنے پیش کی گئی۔ ایف آئی آر ایک پولیس کانسٹیبل کی شکایت پر مبنی ہے، جس نے خود تسلیم کیا کہ توحید مسجد کے باہر جمعہ کی نماز کے دوران کوئی رکاوٹ یا خلل نہیں تھا۔ تاہم جب 22 اگست کو نماز کے بعد تقریباً 200 افراد نے مختصر طور پر پلے کارڈس اٹھائے اور قبرستان کی زمین کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے تو پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سڑک بلاک کی اور ٹریفک میں خلل ڈالا۔
اس مقدمے میں چند افراد کو نامزد کیا گیا جن میں مقرم، جاوید، قادر، یعقوب، منیر خان اور شریف شامل ہیں اور ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعدد دفعات لگائی گئیں۔ سہیل نے کہا کہ حکومت نے پرامن مظاہرین پر معمولی اور ضمانتی دفعات لگا کر قانون کو خوف کا ہتھیار بنا دیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جوبلی ہلز کے مسلمان کئی سال سے قبرستان کی زمین کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بی آر ایس حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے تھےلیکن دسمبر 2023 میں اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس حکومت نے اس عمل کو ترک کر دیا اور تعاون کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا "بی آر ایس کی جانب سے شروع کیے گئے مثبت اقدامات کو جاری رکھنے کے بجائے اس حکومت نے متعدد دفعات میں مقدمے درج کر کے خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔”انہوں نے اس قدم کو "تلنگانہ کی جمہوری تاریخ کا شرمناک باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر نے کانگریس کی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
"ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ تلنگانہ میں ‘کانگریس’ نہیں بلکہ ‘کانگRSS’ کی حکومت ہے۔ ریونت ریڈی کی کانگریس بی جے پی کی فرقہ پرست سیاست سے مختلف نہیں۔ یہ ایف آئی آر واضح کرتی ہے کہ ریونت حکومت یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی ایک نقل ہے، جو مسلمانوں کو خوفزدہ کر کے حکومت چلا رہی ہے۔”
بی آر ایس رہنما نے زور دے کر کہا کہ مسلمان نہ تو کوئی تشدد کر رہے تھے، نہ ہی کسی قسم کی قانون و نظم کی صورتحال پیدا کی، نہ بلوائی تھے، نہ شرپسند۔ وہ عام شہری تھے جو ہاتھوں میں پلے کارڈس لے کر ایک ایسے مطالبے کے لیے نعرے لگا رہے تھے جو ہر مسلمان خاندان کو متاثر کرتا ہے – مرنے کے بعد دفن ہونے کی جگہ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مطالبے کو جرم بنانا، جمہوریت، آئین، اور تلنگانہ کے جذبے کی توہین ہے، جس کے لیے لاکھوں افراد نے جدوجہد کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب کسان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں مظلوم کہا جاتا ہے، جب طلبہ احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ریاست کا مستقبل کہا جاتا ہے، لیکن جب مسلمان پرامن احتجاج کرتے ہیں تو انہیں مجرم قرار دیا جاتا ہے۔سہیل نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں مسلمانوں کو خاموش نہیں کر سکتیں "چاہے جتنے بھی مقدمے درج کیے جائیں، دھمکیاں دی جائیں، یا خوف پیدا کیا جائے، جوبلی ہلز کے مسلمان اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
قبرستان کی زمین کا مطالبہ ان کا حق ہے جس طرح وہ زندگی میں عزت چاہتے ہیں اسی طرح موت کے بعد بھی عزت چاہتے ہیں۔”انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بی آر ایس پارٹی اس جدوجہد میں مسلمانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے "ہم نے یہ عمل شروع کیا تھا اور جب تک انصاف نہیں ہوتا، ہم ساتھ کھڑے رہیں گے۔ اگر کانگریس حکومت آوازیں دبانے اور جھوٹے مقدمے درج کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اسے نہ صرف مسلمانوں بلکہ انصاف اور برابری پر یقین رکھنے والے تمام طبقات کی زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
سہیل نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایف آئی آر واپس لی جائے اور جوبلی ہلز میں مسلمانوں کے لیے قبرستان کی زمین فراہم کی جائے۔”یہ کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔ دفن ہونے کی جگہ نہ دینا انسانیت سے انکار کے مترادف ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بی جے پی کی اینٹی مسلم پالیسیوں کی نقل بند کر کے ایک ایسی ریاست کے سربراہ کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے جو تمام برادریوں کا احترام کرتی ہے۔ انھوں نے کہا اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو تاریخ انہیں کانگریس کا لیڈر نہیں بلکہ ‘کانگRSS’ بنانے والا شخص یاد رکھے گی،”۔