این آر آئی

ڈاکٹر نصرت مہدی کو ابوظہبی میں بین الاقوامی اعزاز ’’سفیرِ اردو‘‘ سے نوازا گیا

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ آکولہ

ابوظہبی (متحدہ عرب امارات) عالمی ادب کے افق پر ہندوستان کا نام ایک بار پھر روشن ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر، ممتاز شاعرہ، ادیبہ اور فنِ ادب کی ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر نصرت مہدی کو ان کی بے مثال ادبی خدمات، فکری گہرائی اور اردو زبان کے فروغ میں طویل عملی کردار کے اعتراف میں بین الاقوامی اعزاز ’’سفیرِ اردو‘‘ سے نوازا گیا۔

 

 

یہ اعزاز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں قائم معروف ہندوستانی ثقافتی تنظیم ”کلچرل کارواں” کی جانب سے ایک پروقار تقریب میں پیش کیا گیا، جس میں امارات کے متعدد ادبی، سماجی اور علمی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔ڈاکٹر نصرت مہدی کا شمار اُن ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نثر و نظم دونوں میدانوں میں اپنی تخلیقی توانائیوں سے اردو ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کی بارہ سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں

 

 

جو ان کے متنوع تخلیقی سفر اور فکری وسعت کی زندہ مثال ہیں۔ ان کتب میں کہیں تخیل کی لطافت جھلکتی ہے، کہیں احساسات کی لطیف لہریں، اور کہیں سماجی شعور کی گہرائی اپنے نقوش چھوڑتی ہے۔ ان کے قلم نے نہ صرف اردو شاعری کو نئے زاویے دیے بلکہ جدید نثر کو بھی ایک منفرد اور باوقار اسلوب عطا کیا۔ادبی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر نصرت مہدی کی جدوجہد کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ برسوں سے اردو کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ریاست بھر میں درجنوں نئے ادبی پروگرام، سیمینار، ورکشاپس، نوجوان شعرا کے تربیتی کیمپس، مشاعرے اور زبان دوستی کے متعدد منصوبے شروع کیے

 

 

جنہوں نے نہ صرف اردو کو نئی زندگی بخشی بلکہ نئی نسل کو بھی اس زبان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کا سفر انتہائی تابناک رہا ہے۔ وہ متعدد عالمی اردو کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ کتاب میلوں، مشاعروں، ادبی نشستوں، ثقافتی فورمز اور علمی مباحثوں میں ان کی موجودگی ہمیشہ مرکزِ نگاہ رہی ہے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں ہندوستان اور خاص طور پر بھوپال کے ادبی تشخص کو بلند کیا اور اردو کے سفیر کے طور پر اپنا کردار نبھایا۔ مختلف قومی و عالمی ادبی

 

 

اداروں کے مشاورتی بورڈز میں ان کی شمولیت ان کی علمی بصیرت اور ادبی ساکھ کی مظہر ہے۔اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہیہ اعزاز دراصل اردو زبان کی عظمت اور اس کی تہذیبی وراثت کی عالمی سطح پر پذیرائی ہے۔ میری ذاتی خدمات کا اعتراف میرے لیے باعثِ سعادت ہے، مگر اس سے بڑھ کر خوشی اس بات کی ہے کہ اردوزبان کے فروغ کے سلسلے میں ہندوستان کی کوششوں کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ میں مدھیہ پردیش حکومت، اپنے چاہنے والوں، رفقائے کار اور تمام اہلِ ادب کی بے لوث محبت اور مسلسل حوصلہ افزائی کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ڈاکٹر نصرت مہدی کو ”سفیرِ اردو” کا اعزاز ملنے کی خبر ادبی حلقوں میں نہایت مسرت

 

 

کے ساتھ قبول کی گئی ہے۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے لے کر عالمی ادبی مراکز تک ہر جگہ اس فیصلے کو اردو کے لیے ایک خوش آئند قدم اور ڈاکٹر نصرت مہدی کی خدمات کا برمحل اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اعزاز ان کی علمی، فکری، تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کی توثیق ہے، جو اردو کے مستقبل کے لیے خوشگوار امکانات کی ترجمانی کرتا ہے۔یوں ڈاکٹر نصرت مہدی ایک بار پھر اپنی شخصیت اور اپنے فن کے ذریعے ثابت کرتی ہیں کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک جذبہ، ایک روایت اور ایک لطیف احساس ہے

 

 

جسے دنیا بھر میں چاہنے والے موجود ہیں۔ اور آج، ابوظہبی سے لے کر بھوپال تک، اردو کے چاہنے والے اس بات پر فخر کر رہے ہیں کہ ایک بار پھر ہندوستان کی ایک بیٹی نے عالمی سطح پر اردو کا پرچم سر بلند کر دیا ہے۔

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button