سعودی عرب:اداروں میں خواتین باوقار لباس پہنیں۔ ملازمین کے لیے عام ہدایت

ریاض ۔ کے این واصف
مملکت کے سرکاری و نجی ادارون میں 2014 کے بعد خواتین ملازمین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔ سرکاری عداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے صنعتی سکٹر میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین ملازم ہیں۔
سعودی وزارتِ افرادی قوت وسماجی بہبود نےسرکاری و نجی اداروں کے ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ کی پابندی پر زور دیتے ہوئے نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں۔اخبار 24 کے مطابق مناسب لباس کی پابندی کا اطلاق غیرمنافع بخش شعبوں کے ملازمین پر بھی ہوگا۔ وزارت اس حوالے سے عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے پورٹل پرتجاویز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
لباس کے حوالے سے مرد کارکنوں کے لیے قومی لباس کی تجویز ہے جبکہ خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باوقار لباس اختیار کریں جو باریک اور نہ ہی چست ہو۔ضوابط میں اس بات پر بھی زوردیا گیا کہ کارکن اور اہلکار اسلامی تعلیمات اور مملکت کی تہذیب وثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوران ڈیوٹی بہترین اخلاق کا مظاہرہ اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
ملازمین اور کاکنان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران یا کسی تقریب یا میڈیا کے پروگرام میں شرکت پر ایسے طرزعمل سے گریز کریں جس سے مذہبی رجحانات مجروح ہوں، قبائلی سوچ کو فوقیت دی جائے یا ایسے سیاسی موقف اور فکری عقائد پرعمل کریں جن سے مملکت کے موقف کو نقصان پہنچے۔
کارکنوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھیں اور ایسی اشیا کے استعمال سے گریز کریں جن سے سیاسی یا فکری سوچ اجاگر ہوتی ہو۔سعودی کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ کام کے دوران یا کسی تقریب یا میڈیا پروگرام میں شرکت کے دوران مکمل قومی لباس (ثوب، غترہ یا شماغ ) پہنیں جبکہ غیرملکی کارکنوں اچھا سوٹ پہنیں۔
اسی طرح سعودی خواتین کارکنوں کے لیے بھی یہ پابندی ہوگی کہ وہ کسی تقریب میں شرکت کے دوران مکمل با وقار لباس استعمال کریں۔ نجی یا غیرمنافع بخش شعبوں میں قانون کی خلاف ورزی پر اپنے ملازمین کو جوابدہ ٹھرانے یا ان سے باز پرس نہ کریں، اس صورت میں لیبر لا کے تحت جرمانہ عائد کیا جائے گا۔



