تلنگانہ

جاگروتی جنم باٹا کے تحت کویتا کا کاماریڈی کا دورہ آبپاشی و دیگر مسائل کا جائزہ

نظام ساگر میں جمع مٹی کو فی الفور نکالا جائے

تاریخی اہمیت کے حامل پروجیکٹ سے آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچانا ضروری

جاگروتی جنم باٹا کے تحت کویتا کا کاماریڈی کا دورہ آبپاشی و دیگر مسائل کا جائزہ

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جنم باٹا پروگرام کے تحت کاماریڈی ضلع میں جکل حلقہ کے آبپاشی مسائل کا جائزہ لیا اورکہا کہ اگرچہ یہاں نظام ساگر جیسا بڑا پروجیکٹ ہے لیکن جکل کو اس کا فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ تالابوں سے 22 ہزار ایکڑ اور کائیلاش نالہ سے 9 ہزار ایکڑ کو ہی پانی مل رہا ہےجبکہ لینڈی پراجیکٹ مہاراشٹراسےتنازعہ کے باعث برسوں سے رکا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناگامڈوگو لفٹ اسکیم کے لئے 40 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی دینے کامنصوبہ ہے، مگر 200 ایکڑ درکار زمین میں سے صرف 12 ایکڑ ہی حاصل کی گئی

 

جس کے باوجود تعمیرات شروع کردی گئیں جس سے تین گاؤں کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور پانی نہ ملنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس منصوبہ کا مکمل ڈی پی آر فوراً پیش کرے اور واضح کرے کہ کون سے گاؤں متاثر ہوں گے، کیوں کہ نہ پچھلی حکومت اور نہ موجودہ حکومت نے ڈی پی آر تیار کیا۔ وڈے پلی پمپ ہاؤس برسوں بند رہا اور صرف ان کے دورہ سے دو دن قبل صاف کرکے موٹریں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاری گاڑیوں کی آمد سے عوام پریشان ہیں

 

اور کئی کسانوں کی آدھی ایکڑ سے پاؤ ایکڑ تک زمین جا رہی ہے۔ کلکٹر کو کسانوں کے مسئلہ کی سماعت کر نی چاہئے اور واضح کرنا چاہئے کہ انہیں کتنا معاوضہ دیا جائے گا۔ پہلے 17 لاکھ روپئے فی ایکڑ ملتے تھے، مگر اب کسان زمین کے بدلے زمین یا 50 لاکھ روپئے فی ایکڑ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 430 کروڑ کے اس پروجیکٹ کو اب تک ایک تہائی فنڈز بھی نہیں ملے اور اس رفتار سے پراجیکٹ مکمل ہونے میں مزید کئی سال لگیں گے۔

 

جاگروتی اس مسئلہ کا فالو اپ جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر کسانوں کے ساتھ احتجاج بھی کرے گی۔بعد ازاں کلواکنٹلہ کویتا نے نظام ساگر پروجیکٹ کا دورہ کیا اور نواز علی جنگ بہادر کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت نچھاور کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظام ساگر 1923 میں تعمیر شدہ تاریخی ورثہ ہے، مگر آج اس میں آدھی گنجائش کے برابر مٹی بھر چکی ہے۔ 1972 میں کی گئی ڈیسلٹنگ کے بعد گنجائش 30 ٹی ایم سی ہوئی تھی جو دوبارہ مٹی بھرنے سے کم ہوکر 11 ٹی ایم سی تک پہنچ گئی تھی اور اب 17 ٹی ایم سی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پروجیکٹ پانی ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں رہا اور بارش کا پانی آتے ہی گیٹ کھولنے پڑتے ہیں

 

۔انہوں نے کہا کہ اصل میں 3 لاکھ ایکڑ کو پانی ملنا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ حکومت نے مختلف پروجیکٹس سے مٹی نکالنے کا پروگرام شروع کیا ہے، مگر نظام ساگر میں جمع مٹی کو فوری نکالنا ضروری ہے۔ یہ مٹی کسانوں کو دی جانی چاہئے تاکہ دیہات مضبوط ہوں۔ حکومت کو اس پر فوری ڈی پی آر تیار کرنا ہوگا۔ مٹی بھرنے کی وجہ سے ایلا ریڈی پیٹ کے کئی گاؤں ڈوب رہے ہیں، حتیٰ کہ حالیہ بارش میں بیک واٹر پاپنّا پیٹ تک پہنچا اور تقریباً چار ہزار ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں، مگر حکومت نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا

 

۔کویتا نے واضح کیا کہ نظام ساگر ہماری وراثتی دولت ہے اور اسے محفوظ رکھ کر مستقبل کی نسلوں تک فوائدپہنچانا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کی نکاسی ،جدید کاری اور بیک واٹر سے متاثرہ کسانوں کو معاوضہ فوری دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button