ممتاز شاعر و محقق عزیز بلگامی دنیا سے رخصت۔ ادبی دنیا غمزدہ

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ آکولہ
موبائل نمبر۔7972780976
اردو ادبی دنیا کے لیے جمعہ کی صبح ایک نہایت المناک خبر لے کر آئی، جب کرناٹک کے ممتاز شاعر، ادیب، کالم نگار، محقق اور نقاد عزیزالدین عزیز بلگامی 71 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف اردو شاعری بلکہ تحقیق، نثر نگاری، تنقید اور صحافت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ وہ اپنے پس ماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی رحلت نے ہندوستان اور بیرونِ ملک کے ادبی حلقوں میں غم و اندوہ کی گہری لہر دوڑا دی ہے۔عزیز بلگامی یکم مئی 1954 کو کرناٹک کے ضلع بیلگاوی کے سرسبز گاؤں کڈچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک قدیم اور معزز خاندان سے تھا۔ ان کے آباء و اجداد کرندواڈ (ضلع کولہاپور) کے راجواڑے سے وابستہ تھے اور حضرت ٹیپو سلطان کے ساتھ خاندانی سطح پر قربت و رشتہ داری رکھتے تھے۔
برطانوی یلغار کے دور میں دیگر ریاستوں کیساتھ ان کے خاندان نے بھی مزاحمت کی، بعد ازاں ”جمعدار” کا لقب ان کے بزرگوں کو محکمہ پولیس میں خدمات کے سبب ملا، جو خاندانی نام کے طور پر رائج ہوگیا۔ ان کے والد محمد اسحاق جمعدار (پیدائش 1898) اور والدہ خدیجہ بی دونوں علم و تہذیب کے قدر دان تھے۔کڈچی گاؤں، جو دریائے کرشنا کے کنارے واقع ہے، عزیز بلگامی کے بچپن کی حسین یادوں کا مرکز تھا۔ مالی مشکلات کے باوجود ان کے بچپن میں سادگی، بے فکری اور روحانی ماحول کی جھلک نمایاں تھی۔ تیرنا، مچھلیاں پکڑنا، دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے گھنٹوں غور و فکر کرنایہ تمام مشاغل ان کی شخصیت اور مزاج میں رچ بس گئے۔
اس روحانی رنگ نے ان کی شاعری میں گہرائی، نرمی اور درویشی کی کیفیت پیدا کی۔ابتدائی تعلیم انہوں نے جنیدیہ ہائی اسکول، کڈچی میں حاصل کی، جبکہ میٹرک بیلگاوی کے بشیبان ہائی اسکول سے مکمل کیا۔ پی یو سی اور بی ایس سی کے پہلے سال آر ایل ایس انسٹی ٹیوٹ بیلگاوی میں اور بی ایس سی کے باقی دو سال دھارواڑ کے کیٹل کالج میں گزارے۔ ان کی زندگی میں اہم ترین موڑ اس وقت آیا جب ان کی ملاقات معروف روحانی و ادبی شخصیت سید نورالدین قادری نور سے ہوئی، جنہوں نے ان کی شخصیت، فکر اور فن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کے بعد عزیز بلگامی نے رسمی تعلیم چھوڑ دی اور عملی زندگی میں قدم رکھا، مگر شاعری کا شوق ان کے رگ و پے میں یوں رچا بس گیا کہ تا دمِ آخر اس سے وابستہ رہے۔مختلف ملازمتوں کے بعد بالآخر بینک سروس اختیار کی، اور اسی دوران انہوں نے علمی سفر دوبارہ شروع کیا۔
1995 میں میسور یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور 1999 میں بنگلور یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر میم نون سعید کی نگرانی میں ان کا تحقیقی مقالہ ’’عطا الرحمن عطا حبلی فن و شخصیت‘‘ تھا، جو ’’زنجیرِ دست و پا‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بے حد پسند کیا گیا۔ بعد ازاں یہ کتاب ان کے علمی وقار کی علامت بن گئی۔عزیز بلگامی کی شخصیت میں روحانیت، منکسر المزاجی اور خودداری نمایاں تھیں۔ انہوں نے دنیاوی کشمکش کے باوجود ہمیشہ صبر، شکر اور درگزر کا راستہ اپنایا۔ ان کا مشہور مصرع ’’گالی تمہارے پاس، دُعا ہے ہمارے پاس‘‘ ان کے اخلاقی مزاج کا آئینہ دار ہے۔ وہ علمِ قرآن سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے اور زندگی کے آخری
برسوں میں درجنوں طلبہ کو قرآنی عربی کی تعلیم دیتے رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ کم از کم ایک فرد کو مکمل قرآن معنی کے ساتھ پڑھا دیں، جو کام اب ان کا تربیت یافتہ بیٹا محمد یونس جاری رکھے ہوئے ہے۔بینک کی مختلف شاخوں میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے بنگلور میں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ اس کے بعد مالی حالات بدل گئے، مگر انہوں نے کبھی شکایت کا لہجہ اختیار نہیں کیا۔ بعد ازاں زبیدہ پری یونیورسٹی کالج میں بطور پرنسپل انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ طالبات میں اردو ادب کا ذوق بھی پیدا کیا۔ ان کی ادبی کوششوں کے سبب 2014 میں کرناٹک پری یونیورسٹی کے اردو نصاب میں ان کے دو قطعات شامل کیے گئے، جو ایک بڑا اعزاز تھا۔ادب کی دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ شاعری، نثر، تحقیق، کالم نگاری اور صحافت کے میدان میں پہچانے جانے لگے۔
وہ ماہنامہ ’’الرشید‘‘ کے ایڈیٹر رہے، ’’جوہرِ گفتار‘‘ اور ’’صدائے فطرت‘‘ جیسے رسائل میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کے مضامین، کالم اور تحقیقی تحریریں ہندوستان اور بیرونِ ملک کے کئی رسائل و جرائد میں شائع ہوئیں۔ قوم پرستی، مذہبی رواداری، ملی اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام ان کی تحریروں اور شاعری میں نمایاں ہے۔ پدم بھوشن مولانا عبدالکریم پاریکھ کی سوانح ’’بحرِ کوثر کی ایک آبجو‘‘ کی تیاری میں انہوں نے نمایاں تعاون کیا۔شاعری کے میدان میں بھی انہوں نے گہرا نقش چھوڑا۔ ان کی دو شعری مجموعے۔’’حرف و صوت‘‘ (1992) اور ’’سکوں کے لمحوں کی تازگی‘‘ (2003)اپنے اسلوب، سلاست اور کیفیت کے سبب خاصے مقبول ہوئے۔ ان کی نعت ’’میرے مصطفیٰ آئے‘‘ آج بھی اہلِ ذوق میں بے حد پسند کی جاتی ہے۔ مشاعروں میں ان کی شرکت ہمیشہ سامعین کے لیے دلکش تجربہ ثابت ہوتی تھی
اور ان کی آواز میں موجود مٹھاس محفلوں کو زندہ کر دیتی تھی۔ان کی آواز نے آڈیو دنیا میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ ان کی پہلی سی ڈی ’’غزلیں اور نعتیں‘‘ بے حد مقبول ہوئی۔ دوسری سی ڈی ’’دعا ہے ہمارے پاس‘‘ سابق چیئرمین کرناٹک اردو اکادمی خلیل مامون کے ہاتھوں ریلیز ہوئی۔ کیرالہ کے اردو شائقین کے لیے انہوں نے علامہ اقبال کے منتخب کلام پر مشتمل ایک خصوصی سی ڈی بھی ریکارڈ کی، جبکہ ان کے کلام کو رفیق شیخ اور دیگر گلوکاروں نے بھی اپنی آواز دی۔ ان کے کئی پروگرام دوردرشن، آل انڈیا ریڈیو اور مختلف ٹی وی چینلز سے نشر ہوئے۔ان کی شخصیت اور فن پر شری ونکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی کے شبیر قاضی نے ایم فل کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا، جو ان کے ادبی مقام کا ثبوت ہے۔عزیز بلگامی کی وفات سے اردو ادب ایک خوبصورت، مدھم، پرسوز اور دلنشین آواز سے محروم ہوگیا ہے۔
ان کا تخلیقی ورثہ، ان کی آواز اور ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ کا درجہ رکھتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔



