تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ کا ریاستی حکومت، ڈی جی پی اور ٹی ایس پی ایس سی کو پولیس میں بڑی تعداد میں خالی آسامیوں پر فوری کارروائی کا حکم

تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور دیگر فریقین بشمول تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن (TSPSC) کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس میں موجود خالی آسامیوں کی تفصیلی رپورٹ اور انہیں پُر کرنے کے لیے وقت کے پابند منصوبہ (ٹائم لائن) عدالت میں داخل کریں۔ یہ ہدایت اے۔ گوروتیجا کی جانب سے دائر کی گئی عوامی مفاد کی عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران جاری کی گئی

 

 

جس کی نمائندگی اور پیروی ایڈووکیٹ برکت علی خان نے کی۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فریقین کی جانب سے پیش کی گئی تحریری و زبانی گذارشات کا جائزہ لینے کے بعد یہ حکم صادر کیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ریاست کو واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ “پولیس اور ریاستی مسلح افواج میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ فورس پر بوجھ نہ بڑھے، اور اس عمل کی وقتاً فوقتاً نگرانی بھی کی جائے۔” ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایسی

 

 

باقاعدہ نگرانی کے نہ ہونے کے باعث تلنگانہ پولیس میں منظور شدہ خالی آسامیوں کی تعداد بڑھ کر 14,935 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 11,713 کانسٹیبل اور 739 سب انسپکٹر کی اسامیاں شامل ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس کمی کے باعث موجودہ عملے پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، امن و امان کے فرائض متاثر ہوتے ہیں، تفتیش میں تاخیر آتی ہے اور عوامی تحفظ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

 

 

برکت علی خان نے ایک عبوری درخواست (I.A) داخل کی جس میں موجودہ خالی آسامیوں کی فوری تفصیلات، مجوزہ بھرتی منصوبہ اور بھرتی کے عمل کی تکمیل کے لیے وقت کی حد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کرلی اور ریاستی حکومت، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ ایک جامع رپورٹ داخل کریں جس

 

 

میں مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ تک کی خالی آسامیوں کی تفصیل، مجوزہ بھرتی منصوبہ اور بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے کی مقررہ ٹائم لائن شامل ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button