مضامین

مولانا ارشد مدنی تیری جرأت کو سلام!

از قلم: محمد فرقان

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

8495087865, mdfurqan7865@gmail.com

اس مردِ مجاہد کی جر۱ئت و بے باکی کو سلام جس نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردیا، اور جس نے اس وقت حق کی صدا بلند کی جب بہت سے لوگ مصلحتوں کی دبیز چادر اوڑھ کر خاموش بیٹھے ہیں۔ یہ وہی مولانا ارشد مدنی ہیں جن کی رگوں میں مجاہد آزادی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کا خون دوڑتا ہے، جن کا گھرانہ اس سرزمین کی آزادی کیلئے جیلوں کی صعوبتیں جھیلتا رہا، جن کے بزرگوں نے انگریز سامراج کے مقابل سینہ سپر ہو کر تحریک آزادی کو نئی جِلا بخشی، لیکن آج وہی لوگ جن کی نسلوں نے آزادی کی خاطر کوئی قربانی نہیں دی، جن کے آبا و اجداد انگریزی درباروں میں سلامی دیتے رہے، جن کی تاریخ معافی ناموں اور اطاعت کے نوشتوں سے بھری ہوئی ہے، وہی لوگ اس مٹی کے سچے سپوت اور اس ملک و ملت کے اصل رہبر مولانا ارشد مدنی کو دیش بھکتی کی پاٹ پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے تاریخ کا سب سے بڑا مذاق ہی کہا جائے گا، مگر تاریخ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور آج بھی مولانا ارشد مدنی کے سچ نے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا ہے۔

 

 

آج ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ایک منظم اور خطرناک سازش کے تحت مسلمانوں کے کردار، ان کی نیت اور ان کے اعمال کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ انصاف کا پیمانہ بدل دیا گیا ہے، ایک شہری کے لیے قانون کا رخ اور دوسرے کے لیے دوسرا۔ اسلام دنیا کا سب سے امن پسند مذہب ہے۔ وہ مذہب جس نے صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانوروں کے حقوق کی بھی ضمانت دی۔ وہ مذہب جس نے ناحق خون کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا، لیکن اسلام کی اصل شبیہ کو مسخ کرنے کیلئے دہائیوں سے ایک منظم سازش جاری ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا مترادف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کوئی معمولی واقعہ ہو یا کسی کا ذاتی جرم، گودی میڈیا اور بعض اداروں نے ہمیشہ مسلمانوں کو بغیر ثبوت، بغیر تفتیش مجرم ٹھہرانے میں کبھی تامل نہیں کیا۔ ایک فرد کو نشانہ بنا کر پوری قوم کے سروں پر شک و شبہات کا لیبل تھوپ کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری ظاہر کیا گیا۔ ان کی وطن دوستی پر سوال اٹھائے گئے، ان پر شک کی نگاہ ڈالی گئی۔آج بھی جب کوئی واقعہ ہوتا ہے، ثبوت ہو یا نہ ہو، ٹرائل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، میڈیا اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ دہشتگرد قرار دیے گئے بے شمار نوجوان برسوں تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، ان کی جوانیاں ختم ہو جاتی ہیں، ان کے ماں باپ کا سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔

 

 

پھر جب عدالت عظمیٰ انہیں باعزت بری کرتی ہے تو میڈیا کی زبان پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ کسی بریکنگ نیوز میں نہیں بتایا جاتا کہ جنہیں پوری قوم کے سامنے دہشتگرد بنا کر پیش کیا گیا تھا وہ بے قصور تھے۔ ان کے گھروں کا چراغ بجھ چکا ہوتا ہے، ان کی زندگیوں کی روشنی چھین لی جاتی ہے، ان کا مستقبل ویران ہوچکا ہوتا ہے۔ مگر اس ویرانی کا کوئی ذمہ دار نہیں۔یہ جمعیۃ علماء ہند ہی ہے جو ان ناانصافیوں کے خلاف دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ ہزاروں مقدمات کی پیروی میں شب و روز لگانے والی یہی تنظیم ہے جس کی کوششوں سے ایسے بے شمار نوجوان باعزت بری ہوئے جنہیں نچلی عدالتوں نے پھانسی تک کی سزا سنا دی تھی۔ کوئی گیارہ سال جیل میں سڑتا رہا، کوئی سترہ سال، کوئی پچیس سال تک کال کوٹھری میں قید رہ کر جوانی گنوا بیٹھا۔

 

 

جرم ثابت نہ ہوا، مگر پوری زندگی تباہ ہوگئی۔ حیرت اس پر ہے کہ گرفتاری کی خبر تو کان پھاڑ دینے والی چیخوں کے ساتھ میڈیا میں چلتی ہے، مگر جب یہی نوجوان باعزت بری ہوتے ہیں تو پورے ملک میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہ انصاف کا کون سا معیار ہے؟گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ان تمام حالات پر کھل کر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ امریکہ جیسے ملک میں ایک مسلمان زہران ممدانی نیویارک سٹی کا میئر بن سکتا ہے، لندن ایک مسلمان کے ہاتھ میں قیادت دے سکتا ہے، لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں آج کوئی مسلمان کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔ انہوں نے بات بالکل سچ کہی کہ اگر کوئی مسلمان اعلیٰ عہدے تک پہنچ بھی جائے تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو اعظم خان اور محمد اقبال کے ساتھ کیا گیا۔ مولانا مدنی کا بیان نہ صرف حقیقت پر مبنی تھا بلکہ پوری قوم کا درد بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو ہر سطح سے دور رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے، انہیں قیادت کے ہر دروازے سے دور ہٹایا جا رہا ہے، انہیں ایک مخصوص فریم میں قید رکھنے کی کوشش جاری ہے جس میں وہ صرف دبے رہیں، جھکے رہیں اور کبھی اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ تک نہ کریں۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بے حد تیز ہوا۔

 

 

مسلمانوں کے ماب لنچنگ نے اس ملک کی فضا کو خون آلود کر دیا۔ مذہبی شعائر کی توہین عام ہوگئی۔ اذان اور نماز تک پر پابندیوں کی باتیں شروع ہوگئیں۔ مظلوموں کی حمایت کرنے والوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ مدارس کے خلاف مہم چلائی گئی تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی و دینی جڑیں کاٹ دی جائیں۔لال قلعہ دھماکے کے حالیہ معاملے میں بھی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی الفلاح یونیورسٹی کی کردار کشی شروع کر دی گئی اور پوری امت کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی۔ اگر ایک فرد غلط ہو بھی جائے تو پوری قوم کو مجرم ثابت کرنے کا یہ کون سا انصاف ہے؟ لیکن جب کوئی غیر مسلم مجرم پایا جائے تو اس کے لیے نرمی اور رعایت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ گویا اس ملک میں دو قوانین ہیں، ایک مسلمانوں کے لیے، دوسرا باقی سب کے لیے۔ آخر کب تک ایک پوری قوم کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ کب تک انصاف کا ترازو ایک رخ پر جھکا رہے گا؟ مولانا ارشد مدنی نے اپنے خطاب میں مزید واضح کیا کہ آزادی کو پچھتر برس گزر جانے کے باوجود مسلمانوں کو قیادت، انتظامیہ، یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں اور فیصلہ ساز سطحوں سے باقاعدہ دور رکھا گیا۔ مسلمانوں کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی، ان کا حوصلہ توڑ دیا گیا اور انہیں اس طرح خوف میں رکھا گیا کہ وہ اپنی زبان بھی نہ کھول سکیں۔ مگر مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ آج اگر ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسلمان بے بس ہیں تو یہ سراسر غلط ہے۔ وہ قوم جو ہزار سال اس ملک میں عدل و وفا کے چراغ جلاتی رہی ہو، اسے چند ظالموں کی سازش مٹا نہیں سکتی۔

 

 

فرقہ پرست طاقتیں مولانا مدنی کے بیان سے اس لیے بوکھلا گئی ہیں کہ انہوں نے سچ کی آواز بلند کی۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر ان کی ناانصافیوں کا پردہ فاش ہوگیا تو ان کے سیاسی ایوان لرز جائیں گے۔ کچھ لوگ مولانا ارشد مدنی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین اور اے پی جے عبد الکلام کا نام گنواتے ہیں، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ عظیم شخصیات آج کی حکومت کی مہربانی سے نہیں بلکہ اس دور میں آگے آئیں جب ملک میں سیکولر اقدار مضبوط تھیں۔ موجودہ حکومت تو جہاں جہاں مسلمان ہیں انہیں نکالنے، کمزور کرنے یا جھوٹے مقدمات میں پھنسانے پر تلی ہوئی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے جو آواز بلند کی وہ لاکھوں مظلوموں کی آواز تھی۔ انہوں نے حکومت کے سامنے سچ رکھا، آئین کا حوالہ دیا، اور ملک کی روح کو جھنجھوڑا کہ ہم سب برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہو کر وہی کام کیا جو ان کے والد حسین احمد مدنیؒ نے انگریزوں کے سامنے کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے دشمن باہر سے آیا تھا، آج دشمن اندر سے اٹھتا ہے۔ مگر جرأت اور سچائی وہی ہے، لہجہ وہی ہے، اسلام سے وفاداری وہی ہے، وطن کی محبت وہی ہے۔

 

 

جب بھی 21/ویں صدی کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس صف اول کے عالمی رہنماؤں اور علماء کا ذکر ہوگا تو ایک بڑا نام جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی کی شخصیت صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ملک اور ملک کے تمام لوگوں خواہ وہ کسی فرقہ، مذہب یا خطہ سے تعلق رکھتے ہوں ان سب کے لیے نہایت قیمتی ہے۔ ان کے دل میں صرف مسلمانوں کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کی فلاح و بہبود کا جذبہ موجزن ہے۔ آسام کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں تقریباً 25/ لاکھ غیر مسلموں کو بھی جمعیۃ نے شہریت دلائی۔ سیلاب زدگان چاہے کسی مذہب کے ہوں، جمعیۃ ان تک پہنچتی ہے۔ تعلیمی اسکالرشپ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ اس ملک میں اگر کوئی تنظیم مکمل آئینی، انسانی اور غیر جانب دارانہ خدمت کر رہی ہے تو وہ جمعیۃ علماء ہند ہے۔ یہی کردار مولانا ارشد مدنی کو پوری قوم کا قائد بناتا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ مولانا ارشد مدنی نہ صرف مسلمانوں کے قائد ہیں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک قائد، رہبر اور مددگار ہیں۔ ان کا کردار اس ملک کے امن، اتحاد، محبت اور آئین کی سربلندی کیلئے بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈوں کے باوجود آج بھی پورا ملک انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مولانا ارشد مدنی اپنے بیانات میں بارہا کہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہمارے آباو? اجداد صدیوں سے یہاں رہتے آئے ہیں، ہم اس کی محبت اپنے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔یہ جملہ فرقہ پرستوں کے سینوں پر بجلی بن کر گرتا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں سے یہی حق چھیننا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کے مالک اور اس کے شراکت دار ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کی بنیاد میں مسلمانوں کا لہو شامل ہے، ان کی محنت شامل ہے، ان کی جدوجہد شامل ہے۔

 

 

یاد رکھیں کہ باطل کتنی ہی کوششیں کرے، حق کی روشنی بجھ نہیں سکتی۔ ظلم جب اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے اور انصاف کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ آج فرقہ پرستی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے، اس لیے یقین رکھیں کہ صبحِ روشن قریب ہے اور مولانا ارشد مدنی جیسے سچے قائد اس روشنی کے چراغ ہیں۔ اس ملک میں آئین کی بالادستی قائم ہوگی، اقلیتوں کو ان کا حق ملے گا، نفرت کی سیاست ناکام ہوگی، اور کثرت میں وحدت کا پرچم پھر بلند ہوگا۔ جمعیۃ علماء ہند اور اسکے قائد مولانا ارشد مدنی نے کبھی جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اس ملک کا سیکولرازم اور جمہوریت اگر کہیں محفوظ ہے تو ان ہی جیسی تنظیموں اور قائدین کی بدولت ہے۔ ان کی زبان حق کی آواز ہے، ان کا دل ملت کا درد رکھتا ہے۔ مولانا ارشد مدنی کا درد رنگ لائے گا، حق غالب آئے گا، ظلم کا اندھیرا چھٹے گا، اور اس ملک میں امن، انصاف اور مساوات کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔

 

 

اللہ مولانا ارشد مدنی کی عمر دراز فرمائے، قائد ابن ِقائد کو سلامت رکھے، ان کی جرأت و استقامت کو پورے ملک کا سلام!

(مضمون نگار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

+918495087865

متعلقہ خبریں

Back to top button