مضامین

قول عمل کا تضاد، انسان کی بدترین صفت اور شخصیت کا کمزور پہلو

   از :۔ پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com.,
Ph.D (
دل، زبان اور عمل کی ہم آہنگی مومن صادق کی پہچان جبکہ قول و عمل میں عدم مطابقت انسان کی بدترین صفت، شخصیت کا کمزور پہلو، منافقین کاعمل ، بھٹکے ہوئے شعراء کی مذموم صفت، یہود کاشیوہ و عادت اور خطرناک عذاب کو دعوت دینے والا قبیح فعل ہے دین اسلام نے مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے جو آداب سکھائے ہیں ان میں سے ایک قول و عمل میں مطابقت پیدا کرنا بھی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قول و عمل کا تضاد وہ خبیث خصلت اور بڑا جرم ہے جو غضب الٰہی اور اس کی ناراضگی کا سبب ہے۔ قول عمل کا تضاد منافقین کی علامت ہے جن کی ٹھکانہ دوزخ کاسب سے نچلا طبقہ ہے۔ ان حقائق سے واقف ہونے کے باوجود آج مسلم معاشرے میں قول و عمل کا تضاد فیشن کی طرح رواج پاچکا ہے۔پورے مسلم معاشرے میں ایسے دو منہ کے لوگوں کی بہتات ہے جو ظاہری طور پر دوستی کا دم بھرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے دشمنی نبھاتے ہیں ایسے لوگوں کو حدیث پاک میں بدترین مخلوق کہا گیا ہے چونکہ ان لوگوں کی وجہ سے شر و فساد ،بغض و عداوت کو بڑھاوا ملتا ہے،  لوگوں کے دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں اور معاشرے کا توازن بگاڑجاتا ہے اسی لیے ایسے دورخے انسان کی دین اسلام میں سخت مذمت اور سرزنش کی گئی ہے۔  اس کے باوجود مسلمانوں
کی اکثریت قول و عمل کے تضاد کا شکار نظر آتی ہے۔ اللہ تعالی کی ذات سے محبت کا دعوی کرنے کے باوجود دنیا میں تمام رشتوں کو اہمیت دینا ، ان کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اپنے تعلق کو اپنے رب سے کمزور کرلینا اور اس کی بندگی کے تقاضوں کو یکسر فراموش کردینا ، قرآن مجید کو دستور حیات ماننے کے باوجود قرآنی ارشادات کے مطابق زندگی نہ گزارنا ، رسول اکرمؐ کو پوری انسانیت کا نجات دہندہ تسلیم کرنے کے باوجود آپؐ کے اسوہ حسنہ پر عمل نہ کرنا ، بروز محشر ہمیں ہر انسان کو اس کے اعمال کا حساب دینا ہے اس بات کا یقین ہونے کے باوجود بے راہ روی کی زندگی اختیار کرنا ، صحابہ اور صحابیات کی پارسائی اور عظمتوں کا اقرار کرنے کے باوجود فلمی ایکٹروں والی طرز حیات اپنانا، اولیائے عظام کی پاکیزہ حیات و کردار سے متاثر ہونے کے باوجود ان کے ارشادات و ہدایات اور نصائح و تلقینات کو نظر انداز کرنا ، صداقت، عدالت، سخاوت، شجاعت و دیگر اعمال صالحہ کو جنت میں لے جانے والے اعمال ماننے کے باوجود، جھوٹ، بے ایمانی، بخیلی، بزدلی و دیگر افعال قبیحہ جیسے جہنم میں لے جانے والے افعال کا ارتکاب کرنا ،
مسلمان ہوتے ہوئے اسلامی طرز حیات کو فرموش کرنا اور اغیار بالخصوص مغربی تہذیب و تمدن کو فخریہ طور پر اپنانا ،للہ تعالی کی قدرت کاملہ پر ایمان رکھنے کے باوجود دنیاوی طاقتوں کے سامنے جھک جانا ، دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں سے ہر کسی کو خالی ہاتھ جانا اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی حرام اور و ناجائز طریقوں سے اقتدار و دولت حاصل کرنا کی کوشش کرنا ، اسکولس اور کالجس میں معیاری تعلیم اور دینی ماحول فراہم کرنے کے نام پر مغربی اقدار کو فروغ دینا اور پیسہ بنانا ، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردینے کا اعلان کرنے کے بعد اپنی اور اپنے عزیز و اقاریب کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا، حقیر دنیا کو موقتی اور آخرت کو دائمی مانتے ہوئے بھی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ، روحانی سلاسل سے وابستگی پر ناز کرنے کے باوجودمادیت کا شکار رہنا وغیرہ قول و عمل میں تضاد کی بدترین مثال ہے۔ الغرض انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسے باقی نہیں ہے جہاں مسلمانوںکی اکثریت قول و عمل کے تضاد کا شکار نہ ہو۔ اگر آج کا مسلمان صحابہ کرام کی زندگی، ان کی دین سے بے پناہ محبت اور اسلامی تعلیمات پر چلنے کا جذبہ
دیکھ لیتے تو انہیں پاگل کہہ دیتا اور صحابہ کرام ہمیں اور ہمارے قول و عمل کے تضاد کو ملاحظہ فرمالیتے تو ہمیں منافق قرار دیتے۔ جب انسان کا کردار قول و عمل کے تضاد کا شکار ہوجاتا ہے تو وہ اس قدر جری ہوجاتا ہے کہ دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لیے مذہبی بلکہ صوفیائے کرام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح انسان کے جذبات سے کھلواڑ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ افسوس صد افسوس ایسے دو منہ کے افراد ر میدانِ تصوف اورحانی دنیا میں بھی موجود ہیں جو اولیا والی شکل بناکر لاکھوں جاہلوں کو اپنا مرید بناکر خانقاہی نظام کو تہس نہس اور زہر آلود کر رہے ہیں۔ ایسے جعلی پیرسانپ کی طرح ہوتے ہیں جس کا جسم مخمل کی طرح نرم و ملائم ہوتا ہے لیکن اس کے اندر زہر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ خانقاہ وہ روحانی مقام و مرکز ہے جہاں عوام الناس کو کو عملی طور پر نیکی پر ابھارا جاتا ہے اور گناہوں کی شناعت و قباحت سے واقف کرواکر انہیں عملی طور پر ان سے بچنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، جہاں تربیت کے ذریعہ لوگوں کے عملی نفاق کو دور کرنے کی مشق کروائی جاتی ہے لیکن آج خانقاہی نظام پر اکثر ایسے جعل ساز پیروں  کا تسلط ہے جو خود قول و عمل کے تضادشکار ہیںجن کے بارے میں حدیث پاک میں بدترین قسم کے عذاب کی وعید آئی ہے۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان عالیشان ہے دو آدمیوں نے میری کمر توڑدی،
پہلا وہ عالم جو دوسروں پر طعن کرے اور دوسرا وہ جاہل جو اپنے آپ کو بھول جائے۔ یعنی وہ شخص جو دوسروں کو نیکیوں کا حکم دے لیکن اپنے نفس کے حق میں غافل اور اسے نافع عمل سے دور رکھے جبکہ عقل و نقل سے یہ بات ثابت ہے کہ اپنے نفس پر احسان کرنا دوسروں پر احسان کرنے سے اولیٰ ہوتا ہے۔ کو ئی شخص دوسروں کو نصیحت کرنے کے ساتھ اس پر خود بھی عمل پیرا ہو تو اس کا مقام اللہ تعالی کے ہاں بہت عظیم ہے۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان اور اللہ تعالی کا بندہ کہیں، ہر لمحہ اس کی رضا چاہنے کا دعوی کریں اور زندگی شیطان کی پیروی کرتے ہوئے گزاریں تو یہ ہمارے قول و عمل کا تضاد نہیں تو اور کیا ہے ؟ ہر مسلمان کو اپنا محاسبہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن مجید نے نہ صرف شیطان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ہے بلکہ اس کی وجہ بھی بتائی کہ اگر تم شیطان کی پیروی کروگے تو وہ تمہیں بے حیائی اور برائی کا حکم دے گا۔ کس قدر معیوب بات ہے کہ مسلمان اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود شیطان کے نقش قدم پر
چلنے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ قرآنی حکم کا مقتضی یہی تھا کہ ہم شیطان کو اپنا دشمن سمجھتے اور ہر شیطانی فعل سے اپنے دامن کو پاک رکھتے لیکن ہمارا طرز عمل قرآنی ارشاد کے بالکل برعکس ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں نافرمانیاں،برائیاں اور بدکاریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جو درحقیقت دنیا و آخرت میں ہماری تباہی اور بربادی کا سامان ہے۔ علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کی محافل میں شرکت کرنا، گناہوں کے بارے میں ذہن میں خیالات لانا، مشکوک و مشتبہ کاموں کو انجام دینا، صریح البطلان چیزوں کا زبان پر لانا ، مسلسل گناہان صغیرہ کا ارتکاب کرنا وغیرہ شیطان کے نقش قدم پر چلنے میں شامل ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو دینی و شرعی تعلیم دینے سے پہلے انہیں خود عملی جامہ پہنچائیں۔ لو گوں کو نصیحت کرنا اور خود کو فراموش کردینا نفاق کی علامت ہے جس کی تین اقسام ہیں: اگر انسان صرف زبان سے ایمان کے دعوے کرے لیکن دل سے اس پر اعتقاد نہ رکھے تو اسے اعتقادی نفاق کہتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کی تکذیب کرنا اور آپؐ سے بغض و عداوت رکھنا، آپؐ کی بعض تعلیمات کا انکار کرنا اور
بعض تعلیمات سے بغض و عداوت رکھنا، اسلام کی عروج و بالادستی پر رنجیدہ و غمگین ہونا، اسلام کی پستی اور زوال پذیری پر دلی فرحت محسوس کرناان سب کا شمار اعتقادی نفاق میں ہوتا ہے۔ اس نفاق کو نفاق اکبر بھی کہتے ہیں جس کا مرتکب ملت سے خارج ہوجاتا ہے۔ سچا مسلمان کسی صورت نفاق اکبر کا ارتکاب کرہی نہیں سکتا۔ اگر انسان کفریہ اعتقاد کا حامل ہو اور اپنے عقائد باطلہ کے مطابق نصوص قرآنی و احادیث میں ایسی بے جا تاویل و تحریف کرے جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین و نیز جمہور امت کے خلاف ہو تو اسے زندیق و ملحد کہتے ہیں ایسا شخص مرتد کے حکم ہے۔اگر انسان کا اعتقاد صحیح ہو لیکن انسانی کمزوریوں اور نقائص کی وجہ سے عملی طور پر افعال قبیحہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے عملی نفاق یا نفاق اصغر کہتے ہیں جس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا البتہ سخت گناہ گار ہونے کے باعث اللہ کی نظر میں مبغوض ہوگا اور بغیر توبہ دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کو گناہوں کی سزا پانے کے لیے پہلے دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر اس کے ایمان کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کیا جائے گا۔اگر مسلمان مسلسل عملی نفاق کا ارتکاب کرے تو وہ پکا منافق بن جاتا ہے۔ قرآن مجید نے منافقین کو فاسق قرار دیا ہے ۔ جس سے ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نفاق کس قدر خطرناک اور نقصان دہ ہے ۔ اسی لیے مذکورہ بالا تینوں اقسام نفاق سے بندہ مومن کا بچنا ضروری ہے جس کے لیے اس پر لازم ہے کہ وہ قول و عمل میں مطابقت پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرے تاکہ جب ہم سے نادانستہ طور پر بھی اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو
دل میں قلق و اضطراب کا شدید احساس ہوجو قول و عمل کے تضاد یعنی عملی نفاق سے نجات کی نشانی ہے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھنے اور اس پر صدق دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button