جنرل نیوز

حضرت سید شاہ حیدر ولی اللہ قادری (نیلنگہ شریف ) کے 5 روزہ عرس شریف کا آغاز 

حضرت سید شاہ حیدر ولی اللہ قادری (نیلنگہ شریف ) کے 5 روزہ عرس شریف کا آغاز 

آج جلوس صندل، منگل کو چراغاں و خطابات، چہارشنبہ کو فاتحہ خوانی و قل اور جمعرات کو زیارت و محفل سماع 

 

حیدر آباد 30 نومبر (راست) برصغیر ہند و پاک میں سرزمین دکن کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ یہاں اولیاء اللہ کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جنہوں نے دین حنیف کے لئے اپنی زندگیوں کو احکامات الہی اور حب رسولؐ میں وقف کردی اور انہیں اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ دنیا انہیں اولیاء اللہ کے نام سے جانتی ہے یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے لئے بندگان خدا میں ایمانیات و انسانیت کا درس عام کیا جس کے ذریعہ نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر ابنائے وطن بھی ان کے حسن سلوک، تقوی و پرہیز گاری سے متاثر ہوکر اسلام کی طرف جوق در جوق داخل ہونے لگے اور ان بزرگان عظام کو ہی اولیاء اللہ کی صف میں شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا جنہیں محبوب سبحانی، قطب ربانی، الباز الاشهب، محی الدین، سیدنا عبدالقادر جیلانی، المعروف غوث الاعظم کے نام سے یاد کرتی ہے

 

، ان ہی کی 8ویں پشت سے حضرت سید شاہ حیدر ولی اللہ قادری ہیں جن کی ولادت 885 ہجری اور وفات 1033 ہجری ہے ۔ آپ کا مزار مبارک موجودہ مہاراشٹر کے علاقہ نیلنگہ شریف میں واقع ہے، جو سرچشمہ غوثیت کا آئینہ دار ہے۔ آپ کے والد حضرت سید شاہ حسین جی جو حج کے لیے تشریف لے گئے تھے کہ آپ کا وصال مکہ معظمہ میں ہوا اور تدفین جنت المعلیٰ میں عمل میں آئی، جو قبل ازیں سجادہ نشین روضہ حضور سیدنا غوث الثقلین غوث الاعظم دستگیر کے منصب پر فائز تھے۔ بعد ازاں سجادہ نشین کے اس لقب کو نقیب الاشراف سے موسوم کیا گیا۔ حضرت سید شاہ حیدر ولی قادری کے نبیرہ ابوالحسن سید شاہ حضرت نبیره قادری بیجاپوری جو کہ بیجاپور ہی میں مدفن ہیں کو سلاطین عادل شاہی اورنگ زیب کے انعامات و اکرامات عطا کئے گئے

 

اور دور آصف جاہی میں دعا گوئی کے لئے عطا کئے گئیں انعامات و جاگیرات کو موجودہ حکومت نے جوں کا توں بحال رکھا۔ عادل شاہی اور نگ زیب کے بعد آصف جاہی خاندان نے انعامات اکرامات میں آئی جاگیرات کو جوں کا توں بحال رکھا۔ رائے چور سے جو سب سے بڑی جاگیر تھی 18000 روپیوں پر مشتمل لگان حاصل ہوتا ہے۔ اس میں آنا حصور، چترنال، مرکٹ نال، بنڈون، تماپور ، تعلقہ منگسگور بیجاپور ضلع میں کنڈہ کے اطراف 3 دیہات شامل ہیں اور بیجا پور میں عادل شاہ نے اپنی حویلی ابوالحسن سید شاہ حضرت قادریؒ کو نذر کیا

 

جہاں موجودہ سجادہ نشین کی قیام گاہ ہے۔ اس کے علاوہ نیلنگہ میں واقع مستقر پر اطراف کے دیہات کیل گاؤں، توگاؤں ضلع بیدر امبے واڑ اور امبول گاہ جو آج بھی زیر تصرف ہیں۔ حضرت سید حیدر شاہ ولی قادری کے مریدین میں ملک الشعراء غواصی، سلطان عبداللہ قطب شاہ بھی شامل ہیں ۔

 

خواصی کے مرشد سید شاہ حیدر ولی اللہ کے خوارقات میں ایک مستقل تصنیف موسوم بہ خوارق حیدری ہے جس کے تین نسخوں کا پتہ چلا ہے، ایک کتب خانه لطیفیہ حضرت مکان ویلور میں موجود ہے۔ دوسرا نسخہ سجادہ صاحب درگاہ حضرت سید میراں شاہ حید ر ولی اللہ قادری، قادری محل بیجاپور کے یہاں اور تیسرا نسخہ پیر پاشاہ سجادہ نشین سید شاہ کریم اللہ بن سید شاہ حیدر ولی اللہ کے ہاں کرنول اے پی میں ہے۔ حضرت سید شاہ حیدر ولی اللہ قادری کے 414 ویں عرس تقاریب کو احاطہ درگاہ شریف واقع نیلنگہ شریف، ضلع لاتور مہاراشٹرا میں شایان شان طریقہ پر 30 نومبر تا 4 دسمبر منایا جارہا ہے۔ اتوار 30 نومبر کو غسل شریف و خدمت فراشی سے 5 روزہ عرس تقاریب کا آغاز ہوچکا ہے۔

 

پیر یکم دسمبر کو جلوس صندل نکالا جائے گا۔ منگل 2 دسمبر کو محفل چراغاں و جلسہ فیضان اولیاء کرام سے علماء مشائخ کے خطابات ہوں گے۔ چہارشنبہ 3 دسمبر کو فاتحہ خوانی اور محفل منعقد ہوگی۔ جمعرات 4 دسمبر کو بعد مغرب زیارت ختم قرآن مجید اور محفل سماع مقرر ہے۔ حضرت مولانا سید شاہ حیدر ولی الله نبیرہ قادری سجادہ نشین عرس شریف کی تمام محافل کی نگرانی کریں گے۔

 

ہزاروں عقیدت مند بلالحاظ مذہب و ملت شرکت کرکے فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک کے ممتاز مشائخ عظام، علماکرام کے علاوہ فیوض و سیاسی و سماجی و ادبی شخصیات اور مختلف انجمنوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔ سید شاہ نصیر الدین نبیرہ قادری عرف شعیب بابا نامزد جانشین نے محبان اولیاء سے شرکت کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button