جنرل نیوز

مثالی پڑوس ہی سے مثالی سماج کی تعمیر ممکن برادران وطن کے ساتھ منعقدہ بین مذہبی اجتماع میں مذہبی رہنماؤں کا اظہار خیال 

 

مثالی پڑوس ہی سے مثالی سماج کی تعمیر ممکن

برادران وطن کے ساتھ منعقدہ بین مذہبی اجتماع میں مذہبی رہنماؤں کا اظہار خیال

حیدرآباد : (پریس نوٹ ) ایک بہتر سماج کی تعمیر تب ہی ممکن ہے جب پڑوسی ایک دوسرے کا خیال رکھیں، ضرورت پڑنے پر سہارا بنیں، اور اچھے اخلاق و اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کریں۔ آج ہمارے سماج میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہو رہے ہیں، ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔ دھرم انسانوں سے محبت کرنے کا درس دیتا ہے، اور ہر مذہب کی تعلیمات میں انسانیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس تعلق سے لوگوں میں بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے آج آفیسراس میس، ملک پیٹ میں ’’مثالی پڑوس، مثالی سماج‘‘ کے زیرِ عنوان منعقدہ بین مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا اہتمام جماعت اسلامی ہند، ملک پیٹ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ جناب سید عزیزالرحمان، تلگو مترجمِ قرآن، نے اپنے کلیدی خطاب میں موضوع کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اچھے انسانوں ہی سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ بہترین وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھے۔ معاشرہ تبھی سنورتا ہے جب پڑوسی سنورے ہوں، اور پڑوسی تبھی مثالی بنتے ہیں جب دلوں میں احترام، ہمدردی اور اعلیٰ اخلاق کی شمعیں روشن ہوں۔ انہوں نے اس سلسلے میں جماعت اسلامی ہند کی کوششوں اور وقتاً فوقتاً منائی جانے والی مہمات کا بھی تذکرہ کیا۔

 

اجتماع سے مختلف مذاہب کے نمائندہ مقررین نے خطاب کیا اور باہمی احترام، ہم آہنگی اور انسانی قدروں کے فروغ پر زور دیا۔ گُرجل شراون کمار، جو تین مندروں کے پوروہت اور پردھان ارچکا مہا سوامی ہیں، نے کہا کہ مذہبی تعلیمات انسان کے باطن کو سنوار کر سماج میں سکون پیدا کرتی ہیں، اور انسانی برتاؤ میں کسی کا مذہب دیکھنا مناسب نہیں۔

 

اَریہ سماج سے وابستہ جہدکار وِٹھل راؤ نے کہا کہ ’’حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات دلوں کو جوڑنے والی ہیں۔ سماج میں دوریوں کو ختم کرنے کے لیے ایسے بین مذہبی سمیلن مستقل منعقد ہوتے رہنے چاہئیں۔ آج کے اس پروگرام کے انعقاد، جس میں ایک اہم مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے، پر میں جماعت اسلامی ہند، ملک پیٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘

 

سوامی ایّپّا کے بھگت سریش بابو، پرنسپل سائی چیتنیہ جونیئر کالج، نے کہا کہ نوجوان نسل میں اخوت اور خدمتِ خلق کے جذبات بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تلنگانہ او بی سی ایمپلائیز فیڈریشن کے صدر دانا کرن اچاری گارو نے بتایا کہ ایک مضبوط سماج کی بنیاد انصاف، مساوات اور باہمی تعاون پر ہوتی ہے۔

 

عیسائی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے جان موسس نے کہا کہ محبت، معاف کردینے اور خدمت کے اوصاف ہر مذہب کی مشترکہ روح ہیں۔ سماجی کارکن اور اے ووپا کے اسٹیٹ وائس پریزیڈنٹ رمیش ویرابومّا گارو نے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان اعتماد بڑھے تو سماجی کشیدگیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔

 

ڈاکٹر وائی۔ جناردھن ریڈی گارو، سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ آیورویدا اسپتال، چارمینار؛ ایڈوکیٹ ڈاکٹر سُبّاشِنی تھنیّر؛ اور جناب محمد مجیبُ الاعلیٰ، امیر مقامی جماعت اسلامی ہند، ملک پیٹ؛ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب سلیم احمد خاں نے افتتاحی کلمات پیش کیے اور جناب خطیب محمد فیّاض نے کارروائی چلائی۔ کلماتِ تشکر اور ظہرانے کے ساتھ اس پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button