ایجوکیشن

عثمانیہ یونیورسٹی کی وضاحت: ایم ایس ڈگری کالج میں سے متعلق سوشیل میڈیاپر ویڈیوکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

حیدرآباد، 30 نومبر 2025۔ایم ایس ڈگری کالج ملک پیٹ میں مبینہ ’’ماس کاپیئنگ‘‘ سے متعلق سوشل میڈیا اور چند نیوز چینلز پر چلنے والی گمراہ کن خبروں اور ایک وائرل ویڈیو کے پس منظر میں عثمانیہ یونیورسٹی نے 29 نومبرکو پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ اس ویڈیو کا کالج میں جاری یونیورسٹی کے امتحانات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یونیورسٹی نے معاملہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کالج انتظامیہ سے وضاحت طلب کی تھی۔

 

 

وائس چانسلر پروفیسر کمار مولگارم کی ہدایت پر اکیڈمک آڈٹ سیل کے ڈائریکٹر پروفیسر کشور نے اس سلسلہ میں تحقیق کے بعدان حقائق کا افشاء ہوا کہ 28 نومبر کو بی اے اکنامکس سالِ سوم کا امتحان تلنگانہ سوشیل ویلفیئر ریزیڈینشل ویمنس ڈگری کالج، چیتنیہ پوری کے طلبہ نے دیا تھا اور وائرل ویڈیو کا ان امتحانات سے کوئی تعلق نہیں۔اور کالج کی اوپری منزل پر اسٹور روم کا کچھ پرانا ریکارڈ غلطی سے نیچے سڑک پر گر گیا، اور سڑک پر موجود چند لوگوں نے اس منظر کو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر ’’ماس کاپیئنگ‘‘ کے غلط دعووں کے ساتھ شیئر کردیا۔ مقامی پولیس نے بھی کالج کا دورہ کیا، اسٹور روم کا معائنہ کیا اور کسی قسم کی نقل یا بدعنوانی کے شواہد نہیں پائے۔ یونیورسٹی حکام نے واضح کیا کہ عثمانیہ یونیورسٹی امتحانی نظام کی شفافیت اور سخت نگرانی کو یقینی بناتی ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

 

 

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کا بیان

عثمانیہ یونیورسٹی کے سرکاری وضاحتی بیان کی تائید کرتے ہوئے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر معظم حسین نے کہا "عثمانیہ یونیورسٹی نے واضح کردیا کہ ایم ایس ڈگری کالج ملک پیٹ میں ماس کاپیئنگ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، اور وائرل ویڈیو مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔”

 

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ”امتحان کالج کے عمارت کی دوسری منزل پر منعقد ہوا تھا جبکہ اسٹور روم ایک الگ فلور پر ہے، جہاں ایک پرانا ریک جس میں ریکا رڈ بکس رکھے تھےاچانک نیچے گرا۔ پولیس نے بھی موقع کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ یہ واقعہ حادثاتی تھا۔”ڈاکٹر معظم حسین نے میڈیا سے نہایت احترام کے ساتھ اپیل کی:”ہم مین اسٹریم، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ گمراہ کن ویڈیو یا اس پر مبنی خبروں کو حذف کرکے عثمانیہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری

 

 

سرکاری وضاحت کو شائع کریں۔ مسلسل غلط معلومات کے پھیلاؤ کی صورت میں ادارہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button