جنرل نیوز

تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل چیر ٹیبل ٹرسٹ نظام آباد کے زیر اہتمام مدرسہ دارالصالحات جدید مسجد،دینی کامپلکس کی تعمیرات کیلئے 2700 مربع گز اراضی کی خریدی 

تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل چیر ٹیبل ٹرسٹ نظام آباد کے زیر اہتمام مدرسہ دارالصالحات جدید مسجد،دینی کامپلکس کی تعمیرات کیلئے 2700 مربع گز اراضی کی خریدی 

ملت اسلامیہ سے مالی تعاون کیلئے دردمندانہ اپیل۔ مفتی سعید اکبر صاحب کی پریس کانفرنس

نظام آباد:25/ڈسمبر(نیوز اینڈ ویوز میڈیا سرویس) دختران ملت کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے مدرسہ دارالصالحات، جدید مسجد کی تعمیر، دفتر ختم نبوت چیرٹیبل ٹرسٹ نظام آباد، تلنگانہ کے نوجوانوں کی ذہن سازی اور روزگار کی فراہمی کی ترغیب دینے کے مقصد سے وسیع و عریض دینی کامپلکس نظام آباد شہر کے اہم شاہراہ قلعہ روڈ پر 10.75کروڑ روپئے مالیتی 2700مربع گز اراضی کی خریدی کا مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل و چیرٹیبل ٹرسٹ ضلع نظام آباد نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

 

ناظم ضلع مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل و چیرٹیبل ٹرسٹ نظام آباد مفتی سعید اکبر صاحب نے آج دوپہر منعقدہ صحافتی کانفرنس میں اس بات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایاکہ فی الحال مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر کرایہ کی عمارت میں چل رہا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت نظام آباد ضلع کے 400گاؤں اور دیہاتوں میں مکاتب دینیہ چلائے جارہے ہیں جس کے تحت 9ہزار مسلم لڑکے لڑکیاں قرآن و دین کی تعلیم حاصل کررہے ہیں

 

۔ اسی طرح ختم نبوت کے تحت ضلع بھر کے دیہاتوں میں 124مساجدتعمیر کی گئی ہیں۔ مفتی سعید اکبر صاحب نے بتایاکہ مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل ٹرسٹ تلنگانہ و آندھرا ریاستوں میں نظام آباد میں سب سے بڑا دینی ادارہ ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جدید دینی کامپلکس کی تعمیر کیلئے جناب ممتاز محی الدین متوطن نظام آباد حال مقیم حیدرآباد سے 2700مربع گز زمین خریدی کے معاملات طئے کی گئی ہے حسن اتفاق سے ممتاز محی الدین محترم جناب مولانا عطاالرحمن خان صاحب مرحوم جامی و قاسمی کے شاگر د ہی نکلے۔ ان سے یہ اراضی مفت نہیں بلکہ قیمت طئے کرتے ہوئے خریدی کی گئی ہے

 

جس میں انہوں نے جدید مسجد کی تعمیر کیلئے 75لاکھ روپئے عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے اور زمین کی قیمت صرف 10کروڑ روپئے ادا کرنے کی مجلس ختم نبوت ٹرسٹ سے خواہش کی ہے۔ مفتی سعید اکبر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سال قبل قدیم سی آر پی ایف کیمپ کے قریب مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ نے دارالصالحات کیلئے 3ہزار مربع گز اراضی کی خریدی کی تھی جس پر تعمیرات کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہونے کے پیش نظر اس کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

 

اور اس سے جو حاصل ہونے والی رقم سے قلعہ روڈ پر 2700مربع گز زمین خریدنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بیعانہ بھی ادا کیاجاچکاہے۔ مفتی سعید اکبر ناظم ضلع مجلس تحفظ ختم نبوت نے بتایاکہ اس اراضی کی خریدی کیلئے ہر ایک مسلمان اپنے طورپر فی کس صرف 250روپئے عطیہ ادا کریں تو اس زمین کی قیمت آسانی کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جدید کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں 22رکنی اراکین شوریٰ کا انتخاب کیا گیا ہے

 

۔ مفتی سعید اکبر صاحب نے بتایاکہ قدیم سی آر پی ایف کیمپ کے مقام پر لڑکیوں کیلئے دارالصالحات کی تعمیر شہر سے کافی دور ہونے اور تحفظ کا مسئلہ درپیش ہونے کے پیش نظر دارالصالحات کی تعمیر کو منسوخ کردیا گیا۔مفتی سعید اکبر نے کہاکہ ملک کے حالات بدل رہے ہیں اور دن بہ دن ایمان کا تحفظ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے اسی طرح قادیانی جیسے فتنے بھی ملت اسلامیہ کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں جس سے مسلمانوں کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

 

انہو ں نے کہاکہ ملک میں دینی نظام فکروں سے چلنے والا ہے موجودہ حالات میں ختم نبوت کے تحت اہم کام انجام دئیے جارہے ہیں جو تحفظ ختم نبوت کیلئے کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ ختم نبوت کا اہم مقصد دین کا بنیادی کام ہے جو گذشتہ 20سالوں سے نظام آباد ضلع میں انجام دیاجارہا ہے۔ جس کے تحت ہر ماہ 15لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ناظم ضلع مجلس تحفظ ختم نبوت ایجوکیشنل و چیرٹیبل ٹرسٹ نظام آباد مفتی سعید اکبر صاحب نے عامتہ المسلمین سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے اس دینی و ملی کاز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔

 

اس صحافتی کانفرنس میں مولانا اکرام الدین آرمور، مولانا عماد الدین، حافظ مجیب، مولانا جابر، مولانا محمود، رکن شوریٰ ایم اے بصیر فاروقی نظام آباد، حافظ جلال بھیمگل، مفتی محبوب بچکندہ، مولانا نواز بانسواڑہ، مفتی ظہیر، عبدالرحمن بازرارہ صدر عیدگاہ جدید و قدیم کمیٹی، سابقہ جج سید قدیر،سابقہ کارپوریٹر ایم اے قدوس،سابق کوآپشن ممبر اشفاق احمد خان، شکیل ا حمد سیول انجینئر این آر آئی (قطر) نثار احمد کلاسک، محمد عبدالرحیم، سید محمد ذکریا مجو، عبداللہ، عبدالقدیر ایڈوکیٹ، حامد بن حقانی، سید محب الدین، سید انور، سید عبدالرزاق، محمد ذاکر، محمد یوسف، محمد سعید، علیم الدین عقیل، محمد اظہر الدین، معززین شہر دیگر علمائے کرام موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button