بابِ مدینۃُ العلم کا فیضان: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ہدایت کا دروازہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
بابِ مدینۃُ العلم کا فیضان: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ہدایت کا دروازہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد، یکم جنوری (پریس ریلیز)
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے فکر انگیز اور دل نشیں خطاب میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شانِ علم و عرفان کو نہایت ادبی، وقار آمیز اور روح پرور انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ علیؓ وہ آفتابِ علم ہیں جن کی کرنوں سے عقل و فہم کے چراغ روشن ہوتے ہیں اور جن کے فیض سے معانیِ قرآن کے دریچے وا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ گرامی بحرِ بیکراں کی مانند ہے، جس کے ساحل پر بڑے بڑے اہلِ علم و دانش سرِ تعظیم خم کرتے نظر آتے ہیں۔ آپؓ کی قرآن فہمی محض الفاظ کی شرح نہیں بلکہ حقیقت شناسی، اسرارِ الٰہی کی معرفت اور حکمتِ ربانی کی امانت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب کوئی عقدۂ مشکل سامنے آتا تو اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی نگاہیں بے اختیار علیؓ کی جانب اٹھ جاتیں۔
مولانا نے فرمایا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمِ ظاہر ہی نہیں بلکہ علمِ باطن کے بھی امین تھے۔ آپؓ قرآنِ کریم کی ہر آیت کے نزول کے وقت، مقام اور پس منظر سے واقف تھے، گویا قرآن آپؓ کے سینۂ مبارک میں زندہ حقیقت بن کر جلوہ گر تھا۔ اسی لیے اہلِ علم کے نزدیک علیؓ کا فیصلہ میزان، ان کا قول سند اور ان کی تشریح حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ عربی زبان کا وہ قاعدہ اور وہ اصول جس کے بغیر قرآن و حدیث کی فہم ممکن نہیں، یعنی علمِ نحو و صرف، اسی بابِ مدینۂ علم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی کاوش کا ثمر ہے۔ آج اگر کوئی شخص قرآن و سنت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو درحقیقت وہ علیؓ ہی کے قائم کردہ علمی دروازے سے گزر رہا ہوتا ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قرآنِ کریم کی معیت کوئی عارضی نسبت نہیں بلکہ قیامت تک قائم رہنے والا رشتہ ہے۔ جس دل میں محبتِ علیؓ نہ ہو، اس پر قرآن کے الفاظ تو اتر سکتے ہیں مگر ہدایت کی روح داخل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے علیؓ کی محبت کو ایمان اور ان سے بغض کو نفاق قرار دیا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ فضل کو حسد کا سامنا رہا، اور چونکہ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل ہی نہیں بلکہ خصائص کے بھی جامع تھے، اس لیے معاندین کی زبانیں ہمیشہ دراز رہیں۔ مگر وقت نے ثابت کردیا کہ علیؓ کے مخالف مٹ گئے اور علیؓ کا ذکر آج بھی ایمان والوں کے دلوں میں چراغِ ہدایت بن کر روشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ علیؓ کا ذکر دراصل علم، ہدایت اور حق کی سربلندی کا اعلان ہے۔ جو اس دروازے سے داخل ہوا، وہ شہرِ علم تک پہنچا، اور جو اس دروازے سے محروم رہا، وہ علم کے ہجوم میں بھی محرومی کا شکار رہا۔


