مضامین

سال تو بدل گیا ہے کیا آپ بھی بدلیں گے ؟

مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

 

تبدیلی سال یہ محض ایک رسمی اعلان نہیں بلکہ ضمیرِ انسانی پر پڑنے والی ایک سنجیدہ اور بیدار کرنے والی دستک ہے۔ گردشِ ایام اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھ چکی ہے، شب و روز ایک دوسرے کے تعاقب میں اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، اور عمر کا ایک اور باب خاموشی سے بند ہو گیا ہے۔ اصل غور و فکر اس بات پر ہونا چاہیے کہ وقت کے اس تغیر کے ساتھ انسان کے باطن میں بھی کوئی فکری اور عملی تبدیلی پیدا ہوئی یا نہیں

 

اگر سال بدل گیا اور انسان اپنی روش پر قائم رہا تو یہ تبدیلی خوش خبری نہیں بلکہ تنبیہ اور محاسبہ ہے قرآنِ مجید زمانے کی حقیقت کو یوں واضح کرتا ہے کہ رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا گیا، تاکہ وہ شخص نصیحت حاصل کرے جو یاد دہانی چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ رکھتا ہو۔ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وقت کی آمد و رفت محض فطری نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل دعوتِ فکر ہے۔ رات کا آنا دن کو رخصت کرتا ہے اور دن کا طلوع رات کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے، اسی طرح انسان کی زندگی سے بھی لمحے رخصت ہوتے رہتے ہیں اور کوئی لمحہ واپس نہیں آتا یہی حقیقت انسان کو سمجھاتی ہے کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری کا بوجھ ہے۔

 

آدمی اپنی عقل، تدبیر اور قوت پر بھروسا کرتا ہے، مگر وقت کا ایک معمولی سا رخ بدل جانا اسے یاد دلا دیتا ہے کہ اصل اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کی قدر و قیمت اس کے مال یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے اعمال اور نیت سے متعین ہوتی ہے، اور جو اپنے عمل کو درست کر لے وہی کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔اصلاحِ حال خود بخود واقع نہیں ہوتی، اس کے لیے ارادے کی بیداری ضروری ہے۔ جب نیت میں اخلاص اور عزم میں پختگی پیدا ہو جائے تو راستے آسان ہو جاتے ہیں، اور اگر نیت ہی کمزور ہو تو سالوں کے گزرنے کے باوجود انسان اپنی جگہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ اہلِ بصیرت نے اسی لیے کہا ہے کہ انسان کی تقدیر اس کے کردار کے ہاتھ میں ہے، اور وہی اپنے انجام کا معمار بھی ہے۔

 

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ زمانہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ سال گزرتے رہتے ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، اور قومیں عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی ہیں، مگر اصل کامیابی انہی کو نصیب ہوتی ہے جن کے دل زندہ اور نگاہیں بیدار ہوں۔ ظاہری آنکھوں کا دیکھنا کافی نہیں، اصل دیکھنا دل کا دیکھنا ہے، اور یہی بصیرت انسان کو غفلت سے نکالتی ہے۔انسان اکثر اپنے وجود پر ناز کرنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل بقا کسی اور کے لیے ہے۔ جب غرور ٹوٹتا ہے تو بندگی کا مفہوم واضح ہوتا ہے، اور انسان کو اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ یہی احساسِ عاجزی اس کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔

 

قرآن اس امر کو بھی واضح کرتا ہے کہ زندگی اور موت ایک آزمائش ہیں، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنے عمل میں بہتر ہے۔ ہر گزرتا ہوا سال اس آزمائش کا ایک مرحلہ ہے، اور ایک دن یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اس وقت نہ نیا سال میسر آئے گا اور نہ کسی اضافی مہلت کی امید باقی رہے گی۔ اسی لیے عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بڑے حساب سے پہلے اپنا حساب کر لیا جائے۔

 

اولیائے اللہ نے وقت کی قدر کو سب سے بڑی دولت قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اصل نقصان مال کے کم ہونے میں نہیں بلکہ وقت کے ضائع ہو جانے میں ہے، کیونکہ مال دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے مگر گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں آتا۔ کامیاب وہی ہے جو ہر دن کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنا لے۔

 

سال کی تبدیلی صرف فردِ واحد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا محاسبہ بھی ہے۔ اگر معاملات میں دیانت کمزور ہو، وعدوں میں سچائی نہ رہے اور دلوں سے خوفِ خدا کم ہوتا چلا جائے تو سال کا بدل جانا صرف تاریخ کی تبدیلی رہ جاتا ہے، اصلاح کی نہیں۔ قرآن کا واضح اصول یہی ہے کہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلی جاتی جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ نہ کرے۔

 

یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عبادات کے ساتھ معاملات کی درستگی ناگزیر ہے۔ نماز، روزہ اور دیگر اعمال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اگر زبان سے دوسروں کو اذیت پہنچے اور حقوق پامال ہوں تو دینداری ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسی لیے بزرگانِ دین نے ہمیشہ اصلاحِ باطن اور درست کردار پر زور دیا ہے۔

 

آخر میں انسان کو اپنے آپ سے یہ سنجیدہ سوال کرنا چاہیے کہ اس نے نئے سال کو محض ایک عددی تبدیلی سمجھا یا ایک پیغام۔ اگر یہ پیغام سمجھ میں آ گیا تو یہی سال اس کے لیے نجات اور بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور اگر غفلت باقی رہی تو آنے والا وقت بھی اس کے خلاف گواہی دے گا۔ سال تو بدل گیا ہے، اب فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ خود کو بدلتا ہے یا خسارے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

 

مزید یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انسان عموماً وقت کی قدر اس وقت کرتا ہے جب وہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ جوانی ڈھلنے کے بعد، صحت کمزور ہونے پر، اور فرصت ختم ہو جانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ جو مہلت ملی تھی وہ کس قدر قیمتی تھی۔ قرآنِ مجید نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان کو مہلت دے کر آزمایا جاتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ غفلت میں پڑا رہے۔ ہر دن جو طلوع ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ ایک پیغام لاتا ہے، اور ہر رات جو چھا جاتی ہے وہ انسان سے اس کے اعمال کا ایک باب سمیٹ لیتی ہے۔

 

اسی طرح یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ وقت کی تقسیم سب کے لیے یکساں ہے۔ کسی کو دن زیادہ نہیں ملتے اور کسی کو راتیں کم نہیں ہوتیں، فرق صرف اس بات میں ہے کہ کوئی ان لمحوں کو سنوار لیتا ہے اور کوئی انہیں ضائع کر دیتا ہے۔ اہلِ دانش نے کہا ہے کہ کامیاب وہ نہیں جس کے پاس زیادہ وقت ہو، بلکہ کامیاب وہ ہے جو ملے ہوئے وقت کو بہتر طریقے سے استعمال کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انسان کو فضول مشاغل، بے مقصد مصروفیات اور لاحاصل گفتگو سے بچنے کی دعوت دیتا ہے۔

 

انسان جب وقت کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اس کے فیصلوں میں سنجیدگی آ جاتی ہے۔ وہ ہر کام سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ یہ عمل اسے اس کے مقصد کے قریب کر رہا ہے یا اس سے دور لے جا رہا ہے۔ یہی شعور عبادت میں خشوع، معاملات میں احتیاط اور اخلاق میں نرمی پیدا کرتا ہے۔ اولیائے اللہ نے اسی لیے وقت کی حفاظت کو دل کی حفاظت قرار دیا ہے، کیونکہ جو اپنے وقت کا نگہبان بن گیا وہ اپنے دین کا نگہبان بن گیا۔

 

یہ بات بھی واضح ہے کہ وقت کا صحیح استعمال صرف ذاتی نجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ جب افراد اپنے وقت کو ذمہ داری کے ساتھ برتتے ہیں تو معاشرہ نظم، عدل اور امانت کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب وقت ضائع کیا جائے تو صرف افراد ہی نہیں بلکہ پوری قوم خسارے میں چلی جاتی ہے۔ اسی لیے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں وقت کے استعمال کا بڑا دخل رہا ہے۔

 

آخرکار یہ حقیقت دل میں بٹھا لینی چاہیے کہ ہر آنے والا سال انسان کے لیے ایک نیا سوال لے کر آتا ہے، اور ہر گزرتا ہوا سال اس سوال کا ایک جواب اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ دانائی اسی میں ہے کہ انسان اس جواب کو اپنے حق میں بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ اگر آج اس نے اپنے وقت کی قدر کر لی، اپنے اعمال کی اصلاح کر لی اور اپنے مقصد کو واضح کر لیا تو آنے والا وقت اس کے لیے رحمت بن جائے گا، ورنہ بدلتے ہوئے سال بھی محض گنتی بڑھاتے رہیں گے اور خسارہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button