قومی یوم خواتین اساتذہ کے موقع پر ملک کی تمام خواتین اساتذہ کی خدمات کو خراج تحسین۔ساویتری بائی پھولے اور ، فاطمہ شیخ جیسی خواتین سماج کے لیے رول ماڈل

از: ڈاکٹرتبریز حسین تاج
فیکلٹی شعبہ تعلیم نسواں مانو حیدرآباد
آج یعنی 3جنوری کو ملک بھر میں Women Teachers’ Day منایا جارہا ہے۔ یہ دن ملک کی عظیم خاتون ساویتری بائی پھولے کے جنم دن کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ساوتری بائی پھولے ایک ہندوستانی ماہر تعلیم، سماجی مصلح، اور شاعرہ تھیں، انہیں جدید ہندوستان کی پہلی خاتون استاد کے طور پر جانا جاتا ہے ۔
ساویتری بائی پھولے نےاپنے شوہر، مہاتماجیوتیبا پھولے کے ساتھ ملکر، مہاراشٹر میں خواتین کے حقوق اور تعلیم کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، انہوں نے اپنی انتھک کوششوں سےایک ایسا ورثہ چھوڑا جو ہندوستان بھر میں سماجی اصلاحات کی تحریکوں کا سبب بنا۔جب ساویتری بائی پھولے ہندوستان میں ذات پات اور جنس کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور غیر منصفانہ سلوک کو ختم کرنے کی جدوجہد کررہیں تھیں
اُس وقت ہندوستان کا مزاج اور سماجی ڈھانچہ آج سے بالکل مختلف تھا۔ چھوا چھات سماج کا ناصر بنا تھا جس کی وجہ سے ذات پات اور جنس کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور غیر منصفانہ سلوک عام بات تھی۔ لیکن اُس پُرآشوب دور میں تعلیم نسواں اور امتیازی سلوک کی بات کرنا گویا اپنی موت کو دعوت دینے سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ پدارنہ نظام کے دبدبہ والے سماج میں خاص کر دلت ، پسماندہ اور پچھڑے طبقات میں تعلیم نسواں کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔لیکن ایسے تاریک ماحول میں بھی ساویتری بائی پھولے نے اُمید کی شمع روشن کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا
جو آج کے کامیاب ہند وستان کی بنیاد ثابت ہورہا ہے۔انہوں نے اُس وقت 1848 میں، لڑکیوں کے لیے اپنا پہلا اسکول تاتیا صاحب بھیڈے کی رہائش گاہ پر قائم کیا، جسے پونے میں بھیڈے واڈا کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا انقلابی قدم تھا جس کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کی راہیں بنتی گئیں۔اس کے علاوہ ان کی جانب سے قائم کردہ ستیہ شودھک سماج کا بھی سماجی تبدیلیوں میں اہم رول رہا ہے۔ ستیہ شودھک سماج کاقیام سال 1873 میں کیا گیا تھا اور وہ خود خواتین ونگ کی صدر تھیں۔
جب ہم ساویتری بائی پھولے کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں فاطمہ شیخ کو بھولنا نہیں چاہئے۔ کسی بھی جدوجہد کی کامیابی فرد واحد سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ہم خیال لوگوں کا شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ فاطمہ شیخ کا شمار ساویتری بائی پھولے کی اہم خیال ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ فاطمہ شیخ 19ویں صدی کی ہندوستانی ماہر تعلیم اور سماجی مصلح تھیں، فاظمہ شیخ کو بڑے پیمانے پر ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ٹیچر کے طور پر جانا جاتا ہے اور انہیں 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کو تعلیم اور بااختیار بنانے میں ان کے کردار کو یاد کیا جاتا ہے "فاطمہ شیخ "تصنیف کی مصنفہ نسرین سید کے مطابق ” ساوتری بائی پھولے کے ساتھ فاطمہ شیخ نارمل اسکول میں گئیں
اور دونوں نے ساتھ ساتھ گریجویشن کیا۔” دونوں نے ملکر لڑکیوں کا اسکول عثمان شیخ کے گھر کے ایک حصے میں "انڈیجینس لائبریری” کے نام سے قائم کیا۔ یہ ایک انقلابی منصوبہ تھا کیونکہ اس وقت کے سماجی ماحول میں لڑکیوں کو عوامی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ دونوں اساتذہ کو اپنے اسکول کو فروغ دینے اور والدین کو اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے کے لیے راضی کرنے کے لیے گھر گھر جانا پڑا۔اُس وقت مسلم معاشرے میں بھی خواتین کی تعلیم کا تصور نہیں تھا۔ بہت کم لڑکیاں تھیں جو زیور تعلیم سے آراستہ تھیں کیونکہ کم عمر میں ہی لڑکیوں کی شادی کا رواج عام تھا۔
راقم الحروف ہمیشہ سے ہی تعلیم نسواں کا حامی رہا ہے۔ کیونکہ میرے خاندان میں خواتین کی تعلیم بزرگوں کی میراث ہے۔ میرے خاندان میں ٹیچر کا سلسلہ میری نانی ماں کی والدہ محترمہ سے شروع ہوا۔ میری پڑھ نانی محترمہ ٹیچر تھیں، آج بھی یہ روایت برقرار ہے۔ میری ہمشراہ بھی ٹیچر ہی ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ میری ایک بہن محبوب نگر کےسرکاری اسکول میں ٹیچر ہیں اُس کی سالگرہ بھی تین جنوری کو ہی ہے۔ میں تعلیم نسواں کا حامی ہونے کا دعوی یوں نہیں کررہا ہوں بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کام بھی کیے ہیں سال 2004میں جب نارائین پیٹ میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کا اسڈی سنٹر قائم کیا گیا تو راقم الحروف نے اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے ٹاون اور اُس کےاطراف گشت کرکے اردومیڈیم میں گریجویشن کورس میں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں لڑکیوں کا داخلہ دلوایا الحمداللہ ان میں سے کئی لڑکیاں آج کئی ایک ملازمتوں پر برسرخدمات ہیں اور اُس میں اکثریت ٹیچرس کی ہے۔
ہم نے ہمیشہ یہی نعرہ بلند کیاکہ آدھی روٹی کھاو پر اپنےبچوں کوپڑھاو۔۔ اپنے گاوں کی پہچان پڑھا لکھا انسان ، ان چند کلمات کے ساتھ قومی یوم خواتین اساتذہ کے موقع پر ملک کی تمام خواتین اساتذہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔



