صدر تلنگانہ جاگروتی کے کویتا کا جنم باٹا پروگرام کے تحت سوریا پیٹ کے مختلف علاقوں کا دورہ

*مسلح جدوجہد اور تحریکات کی سرزمین سوریہ پیٹ کی ترقی کیوں رک گئی ہے*
صدر تلنگانہ جاگروتی کے کویتا کا استفسار۔ جنم باٹا پروگرام کے تحت مختلف علاقوں کا دورہ
عوامی مسائل کا تفصیلی جائزہ۔ تعلیمی، طبی اور آبپاشی مسائل پر شدید ناراضگی کا اظہار
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت سوریہ پیٹ ضلع کے تنگاترتی اسمبلی حلقہ کا دورہ کیا اور مختلف مقامات پر تعلیمی، طبی اور آبپاشی سہولتوں کا مشاہدہ کیا ۔ کویتا نے مقامی مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے تنگاترتی حلقہ کے جاجی ریڈی گوڑم، اروپلی میں واقع اسکول کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ساوتری بائی پھولے کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کی تصویر پر پھول مالا چڑھائی گئی اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیاگیا
۔کویتا نےاساتذہ کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں تہنیت پیش کی طالبات میں چاکلیٹس تقسیم کئے گئے۔بعد ازاں صدر تلنگانہ جاگروتی نے ایس آر ایس پی مرحلہ 2 کے تحت تنگاترتی، کوداڑاور سوریہ پیٹ اسمبلی حلقوں کو پانی فراہم کرنے والی نہر کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ویلوگوپلی گاؤں میں واقع ردرما دیوی تالاب کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ سوریہ پیٹ ضلع مسلح جدوجہد اور انقلابی تحریکوں کی تاریخ کا امین رہا ہے، جہاں کئی تحریکوں میں بے شمار جانوں کی قربانی دی گئی
۔ انہوں نے کہا کہ مشہور گیت ’’بندی اینوک بندی کٹی‘‘ کے تحریر کار بندی یادگیری بھی اسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ علاقہ کئی عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہا ہے، جنہیں یاد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ سوریہ پیٹ ضلع میں ترقی کہاں رک گئی ہے؟ کویتا نے کہا کہ جاگروتی جیسی تنظیمیں ضلع کی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں، اسی سمت توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنم باٹا پروگرام کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور آبی وسائل کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے
۔ اروپلی منڈل کے کے جی بی وی اسکول کے بارے میں کویتا نے کہا کہ ہر برسات کے موسم میں یہ اسکول پہلی منزل تک ڈوب جاتا ہے کیونکہ اسے مکمل طور پر تالاب پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے سبب پانی ٹھہرا رہتا ہے اور مچھروں سے شدید پریشانی ہوتی ہے۔ گزشتہ برس طوفانی بارش کے دوران اسکول کے زیر آب آنے پر ضلع کلکٹر نے معائنہ کیا تھا، مگر آج تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
کویتا نے کہا کہ ریاست بھر میں زرعی نہروں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو رہی ہے اور نہروں میں خودرو پودے اگ آئے ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت نے نہروں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا اور آپریشن و مینٹیننس شعبہ کو بھی فنڈس فراہم نہیں کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کوداڑا تک پانی پہنچانے والی ڈسٹری بیوٹری نہر کی لمبائی 70 کلومیٹر ہے، مگر اس کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے۔صدر تلنگانہ جاگروتی نے ردرما دیوی تالاب کے تعلق سے کہا کہ 700 ایکڑ پر محیط اس تالاب کو گوداوری کا پانی ملنا چاہئے تھا
، لیکن ایک کلومیٹر سے زائد ڈسٹری بیوٹری نہر کی کھدوائی نہ ہونے کے باعث پانی نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابقہ بی آر ایس قیادت نے دو انتخابات میں اس تالاب کو 5 ٹی ایم سی ریزروائر بنانے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ کانگریس حکومت نے اسے لکنورم طرز پر سیاحتی مقام بنانے کا اعلان کیا، مگر تاحال اس تالاب کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آر ایس پی مرحلہ۔2 کے تحت نلگنڈہ ضلع میں ریزروائرز کی ضرورت ہے تاکہ اس خطہ کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے
۔ کلواکنٹلہ کویتا نے تنگا ترتی اسمبلی حلقہ کے کمیونٹی ہیلت سنٹر کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے زیر علاج مریضوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے مسائل معلوم کئے۔ بعد ازاں انہوں نے زیر تعمیر مگر نامکمل 100 بستروں کے اسپتال کا جائزہ لیا اور تعمیراتی کام میں تاخیر کی وجوہات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ تنگاترتی میں گزشتہ 40 برسوں سے صرف 30 بستروں کا اسپتال قائم ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2018 میں کے سی آر نے اسے 100 بستروں کے اسپتال میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر 2022 تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بعد ازاں جی او جاری کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر صحت ہریش راؤ نے سنگ بنیاد رکھا، مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد موجودہ ایم ایل اے نے دوبارہ سنگ بنیاد رکھا۔ دو مرتبہ سنگ بنیاد کے باوجود اسپتال کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کے موجودہ حصے کو بھی آدھا منہدم کر دیا گیا، جس سے طبی عملہ شدید مشکلات کا شکار ہے
اور چھ منڈلوں کے عوام کو مناسب طبی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ماہانہ صرف دو زچگی ہو رہے ہیں اور مجبوری میں عوام نجی اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتال کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے۔بعد ازاں اروپلی کے جی بی وی اسکول میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ زندگی میں کتنی ہی مشکلات آئیں، آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے طالبات کو تلقین کی کہ ناکامیوں سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل جدوجہد جاری رکھیں کیونکہ کوشش سے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے ساوتری بائی پھولے کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ساوتری بائی نے توہین اور مشکلات کے باوجود لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جدوجہد کی، اسی لئے 195 برس گزرنے کے باوجود انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج لڑکیوں کے لئے ماضی کے مقابلے کچھ بہتر مواقع موجود ہیں اور اگر صلاحیت، حوصلہ اور درست عزم ہو تو کوئی بھی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔



