تلنگانہ

حیدرآباد کے کاکتیہ ودیا نکتن اسکول میں فرقہ وارانہ زہر، بچوں پر جانوروں کی طرح ظلم ؛ والدین کا فیس روکنے کا انتباہ

 

حیدرآباد کے کاکتیہ ودیا نکتن ہائی اسکول میں فرقہ وارانہ گفتگو، بچوں کی سلامتی کو لاحق خطرات اور تعلیمی فیصلوں پر عمل نہ ہونے کے خلاف والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے سرپرستوں نے ڈی ای او کو ایک یادداشت بھی حوالے کی ۔

 

والدین کا الزام ہے کہ اسکول کمیٹی کے بعض افراد طلبہ اور سرپرستوں کو ’’پاکستانی‘‘ اور ’’ترکولو‘‘ جیسے توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کر رہے ہیں اور ناتجرںہ کار اساتذہ جانوروں کی طرح معصوم بچوں کی بری طرح پٹائی بھی کی گئی جس کے نتیجہ میں کئی بچے ہاسپٹل سے رجوع ہوئے ہیں، جو آئینی اقدار اور تعلیمی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ شکایت کے مطابق، وعدہ کیے گئے اباکس پروگرام سمیت کئی اہم تعلیمی فیصلوں کو دانستہ نظرانداز کیا گیا، حالانکہ والدین مکمل فیس ادا کر رہے ہیں۔

 

والدین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسکول انتظامیہ میں شامل بعض افراد کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، جس سے طلبہ کی سلامتی خطرے میں ہے، جبکہ پولیس ہدایات کے برخلاف غیر مجاز افراد اسکول کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

 

شکایت میں کہا گیا کہ اسکول کے 95 فیصد طلبہ مسلم ہیں اور یہ اراضی فلاحی مقاصد کے لئے وقف کی گئی تھی، اس کے باوجود فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ والدین نے UDISE+ میں غلط اندراجات اور مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا۔

 

والدین نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر فوری طور پر نااہل و متنازعہ عناصر کو ہٹا کر تجربہ کار کمیٹی کو ذمہ داری نہ دی گئی تو وہ فیس کی ادائیگی روکنے پر مجبور ہوں گے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button