بنگلہ دیش کا معاشی عروج اور سیاسی زوال: ایک عبرت ناک سبق


بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں بنگلہ دیش کو عالمی سطح پر "ترقی کا پوسٹر چائلڈ کہا جاتا تھا۔ یہ محض ایک خطاب نہیں تھا بلکہ ایک ایسی ریاست کی داستانِ عزیمت تھی جو 1971 میں شدید غربت، ہولناک قحط اور ایک تباہ حال ڈھانچے کے ساتھ دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تھی۔ اس دور میں امریکی پالیسی ساز ہنری کسنجر نے بنگلہ دیش کو ایک "ٹوٹا ہوا برتن قرار دے کر اس کے روشن مستقبل سے انکار کر دیا تھا، مگر بنگلہ دیشی عوام کی محنت اور گارمنٹس انڈسٹری کے انقلاب نے اس پیش گوئی کو غلط ثابت کر دکھایا۔ چند ہی برسوں میں اس ملک نے معاشی نمو کی وہ منزلیں طے کیں جن کی مثال جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ملنا مشکل تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی خطے کے بڑے ممالک سے تجاوز کر گئی اور دنیا اس کے معاشی ماڈل کو حیرت و استعجاب سے دیکھنے لگی۔
تاہم اس چمکتے ہوئے معاشی سورج کے سائے میں ایک تاریک سیاسی خلا جنم لے رہا تھا۔ شیخ حسینہ واجد کی پندرہ سالہ حکمرانی، جو بظاہر استحکام اور میگا پراجیکٹس کی علامت تھی، درحقیقت ایک ایسی آہنی گرفت کی عکاس تھی جس نے جمہوریت کی روح کو کچل کر رکھ دیا تھا۔ معاشی اعداد و شمار کے بلند و بالا میناروں کے پیچھے سیاسی گھٹن، انسانی حقوق کی پامالی اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے سماجی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ ترقی کا وہ محل جو محض جی ڈی پی کے ستونوں پر کھڑا تھا عوامی شرکت اور سیاسی انصاف کی بنیادوں سے محروم ہو چکا تھا۔
آئیے اس معاشی عروج اور سیاسی زوال کے گراف کو ایک تصویر کی مدد سے سمجھتے ہیں جو دکھاتا ہے کہ کیسے معاشی ترقی تو بلند ہوتی رہی مگر جمہوری اقدار کا گراف تیزی سے نیچے گرا:2024 کے وسط تک آتے آتے، یہ بلند و بالا محل اچانک ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ ڈھاکہ کی سڑکوں پر اٹھنے والا عوامی طوفان، جس کی قیادت ملک کی نوجوان نسل کر رہی تھی، شیخ حسینہ کی پندرہ سالہ سلطنت کو تنکوں کی طرح بہا لے گیا۔ یہ انقلاب محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس عالمی مفروضے کی شکست تھی کہ "روٹی” فراہم کر کے "آزادی” چھینی جا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کا یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ مگر ناگزیر سبق سکھاتا ہے کہ جب معاشی خوشحالی کے ثمرات انصاف کی بنیاد پر تقسیم نہ ہوں اور جب ترقی کی چمک عام آدمی کی آنکھوں میں امید کے بجائے غصہ بھرنے لگے، تو پھر اعداد و شمار کی جادوگری بھی کسی حکمران کو عبرت ناک انجام سے نہیں بچا سکتی۔ یہ داستان ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے ڈوبنے کی نہیں بلکہ ایک بے حس نظام کے خلاف عوامی ارادے کی فتح کی علامت ہے۔
بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی داستان درحقیقت اس کی محنت کش عوام، خاص طور پر خواتین کی ہمت کی داستان ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سالہ دور میں بنگلہ دیش نے ایک ایسی صنعتی چھلانگ لگائی جس نے دنیا کے بڑے معاشی ماہرین کو دنگ کر دیا۔ اسکی بنیاد ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی صنعت پر رکھی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک بن گیا۔ ملک کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد سے زائد حصہ اسی ایک صنعت سے وابستہ ہو گیا، جس نے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام بخشا بلکہ لاکھوں دیہی خاندانوں کو غربت کی لکیر سے نکال کر ایک نئی زندگی عطا کی۔
اس معاشی سفر میں "انفراسٹرکچر” کی تعمیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حکومت نے پدما برج جیسے میگا پراجیکٹس، ڈھاکہ میٹرو ریل اور جدید بندرگاہوں کی تعمیر کے ذریعے ملک کے کونے کونے کو معاشی مراکز سے جوڑ دیا۔ پدما برج، جو بنگلہ دیش نے اپنے وسائل سے تعمیر کیا، محض ایک پل نہیں تھا بلکہ ملک کے خود اعتمادی کی علامت بن گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی میں ہونے والا اضافہ اس قدر تیز تھا کہ اس نے خطے کے روایتی معاشی طاقتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ اور ڈیجیٹل بنگلہ دیش کے وژن نے ملک کو ایک جدید ریاست کے طور پر پیش کیا، جہاں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی عام آدمی کی پہنچ میں آ گئی۔
تاہم، اس چمکتی ہوئی ترقی کے پیچھے ایک سنگین خامیاں بھی پرورش پا رہی تھیں۔ بنگلہ دیش کی معیشت کا بہت زیادہ انحصار صرف ایک صنعت پر تھا، جو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے سامنے انتہائی حساس تھی۔ مزید برآں، معاشی ترقی کے یہ ثمرات منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہے تھے۔ جہاں ایک طرف ڈھاکہ کی سڑکوں پر نئی مہنگی گاڑیاں اور شیشے کی بلند و بالا عمارتیں نظر آ رہی تھیں، وہیں دوسری طرف مہنگائی کی چکی میں پستا ہوا مزدور طبقہ اپنی اجرت میں اضافے کے لیے چیخ رہا تھا۔ یہ ترقی "جامع نہیں تھی، بلکہ اس نے ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دیا جس کے مفادات براہِ راست اقتدار کے گلیاروں سے جڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ معاشی تضاد تھا جس نے مستقبل کے سیاسی طوفان کا بیج بویا۔
بنگلہ دیش کی کہانی کا یہ رخ ایک ایسی المیہ داستان ہے جہاں معاشی خوشحالی کو "جواز” بنا کر سیاسی آزادیوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ شیخ حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ نے بظاہر ملک کو استحکام دیا، لیکن اس استحکام کی قیمت "سیاسی کثرت پسندی کی موت تھی۔ 2009 سے 2024 تک کا دور ایک ایسی آہنی گرفت کا گواہ ہے جس نے ریاست کے تمام ستونوں—عدلیہ، انتظامیہ، اور مقننہ—کو ایک ہی مرکزِ ثقل یعنی "وزیرِ اعظم ہاؤس” سے جوڑ دیا تھا۔ جمہوریت کا حسن اس کے تنوع میں ہوتا ہے، مگر بنگلہ دیش میں اس تنوع کو "ترقی کے دشمن” کا لیبل لگا کر دیوار سے لگا دیا گیا۔
اس سیاسی زوال کا سب سے بڑا مظہر وہ انتخابات تھے جو محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئے۔ 2014، 2018 اور پھر 2024 کے الیکشن میں عوامی رائے دہی کے بجائے دھونس، دھاندلی اور ریاستی جبر کا بازار گرم رہا۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کو مفلوج کر دیا گیا، اس کی قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا اور کارکنوں پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔ جب سیاسی عمل سے اپوزیشن غائب ہو جائے، تو حکومت اپنی غلطیوں پر اندھی ہو جاتی ہے۔ شیخ حسینہ کو یہ گمان ہونے لگا کہ میگا پراجیکٹس اور پدما برج کی تعمیر انہیں وہ عوامی جواز فراہم کر دے گی جس کے لیے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس جبر کا دوسرا رخ "ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ” جیسے سیاہ قوانین تھے، جنہوں نے صحافت اور آزادئ اظہار پر تالے ڈال دیے۔ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں نے معاشرے میں خوف کی ایک ایسی لہر پیدا کر دی کہ لوگ اپنے گھروں میں بھی بات کرتے ہوئے ڈرنے لگے۔ ریاست نے ایک ایسے "نگران نظام” کی صورت اختیار کر لی جہاں ہر وہ آواز جو حکومت کے معاشی بیانیے سے اختلاف کرتی تھی، اسے "ریاست دشمنی” قرار دیا گیا۔ یہیں سے اس خلیج کا آغاز ہوا جو حکمران طبقے اور عوام کے درمیان بڑھتی چلی گئی۔ بنگلہ دیش کا یہ سیاسی زوال ثابت کرتا ہے کہ جب ایک حکمران عوامی جوابدہی سے آزاد ہو جاتا ہے، تو وہ زوال کے گڑھے کی طرف پہلا قدم اٹھا چکا ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش کے اس پورے سیاسی زوال کا سب سے بڑا "ٹرننگ پوائنٹ” وہ کوٹہ سسٹم بنا، جس نے سلگتی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا۔ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل، جو سالوں سے محنت کر کے ڈگریاں حاصل کر رہی تھی، ان کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد کوٹہ (جس میں 30 فیصد صرف 1971 کے جنگجوؤں کے خاندان کے لیے تھا) ایک ناقابلِ برداشت مذاق بن گیا۔ یہ نوجوان محسوس کر رہے تھے کہ معاشی ترقی کے سارے پھل صرف "عوامی لیگ” کے وفاداروں میں بانٹے جا رہے ہیں۔ جب ان طلبہ نے پرامن احتجاج شروع کیا، تو شیخ حسینہ کی حکومت نے انہیں "رضاکار” (غدار) کہہ کر ان کی توہین کی۔ اس ایک لفظ نے پورے ملک میں وہ آگ لگائی جسے پولیس کی گولیاں اور کرفیو بھی نہیں بجھا سکے۔ ڈھاکہ کی سڑکوں پر بہنے والا طلبہ کا لہو اس بات کا ثبوت بنا کہ اب بات نوکری سے آگے نکل کر "عزتِ نفس” اور "آزادی” تک پہنچ گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی یہ کہانی دنیا بھر کے لیے، خاص طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے، ایک خاموش تنبیہ ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ معاشی ترقی کبھی بھی جمہوریت کا بدل نہیں ہو سکتی۔ آپ بڑی بڑی عمارتیں بنا سکتے ہیں، جی ڈی پی کو آسمان پر لے جا سکتے ہیں، مگر جب تک عام آدمی کو بولنے کی آزادی، انصاف اور ووٹ کا حق نہیں ملے گا، وہ ترقی ایک کھوکھلے گھر کی طرح ہوگی جو تھوڑی سی آندھی میں گر جائے گا۔ شیخ حسینہ کا زوال ثابت کرتا ہے کہ جب حکمران عوام کی نبض سے کٹ جاتا ہے اور صرف "طاقت” کے نشے میں رہتا ہے، تو اس کے اپنے بنائے ہوئے قلعے ہی اس کی قبر بن جاتے ہیں۔
بقول شاعر: "تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ کارواں کیوں لٹا مجھے رہزنوں سے غرض نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے”بنگلہ دیش آج ایک نئے امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت کے سامنے اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو نہ صرف معاشی بلکہ ایک مضبوط جمہوری راستہ دکھائے۔ یہ وقت بنگلہ دیش کے لیے سبق سیکھنے کا بھی ہے اور ایک نئے آغاز کا بھی۔ دنیا بھر کے حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی طاقت ہمیشہ سب سے بڑی ہوتی ہے، اور جب وہ بیدار ہوتی ہے، تو تاریخ کے پنے پلٹ دیے جاتے ہیں



